راز حیات ، مولانا وحید الدین خان ، تبصرہ ابیھا مقبول

زندگی گزارنے کے لیے لازمی اصولوں برداشت وتحمل، عام آمی کو دنیا کے عظیم اشخاص میں شامل کرنے لیے ضروری مہارتیں اور ہر پل آگے ہی آگے بڑھ جانے کی جستجو اور لگن اور پھر اس جستجو کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر آسودگی پانے کے سنہری اصولوں پر مشتمل مولانا وحید الدین خان کی کتاب راز حیات ہے
جو اسم بامسمی ہے اور مبتدی اگر سچی طلب والا ہو تو اخیر تک پہنچتے پہنچتے راز حیات پا ہی لیتا ہے جو کہ مسلم ہونے کے ناطے دنیا و آخرت کی بے بہا کامیابیاں ہیں۔۔
دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ایک مشہور ماہر نفسیات کے مطابق انسانی شخصیت کا حیرت انگیز پہلو ہے
Their power to turn a minus into plus
سلف صالحین اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ماننا یہ تھا قرآن کو عمل میں لانے کے لیے قرآن پر عمل کر کے دکھانا لازم ہے اور راز حیات میں یہ راز پنہاں ہے سو مولانا نے روایتی مولویوں کی طرح فتاوی نہیں لگائے، ڈنڈا نہیں دکھایا، اور کلمے کے فورا بعد نار جہنم کا نقشہ نہیں کھینچا۔
انہوں نےکتاب میں قدم بہ قدم کردار کی تشکیل کی کوشش کی ہےاور کامیابی و ناکامی کی وجوہات سکھائیں اور زندگی کی خوبصورتی کامیابی کے بعد جی اٹھنے کو بتایا اور خوب بتایا ہے۔
کتاب میں قدرت کے حسین اصولوں کو عام فہم اور سادہ پیرائے میں یوں بیان کیا ہے کہ قاری بوجھ محسوس کیے بغیر پیغام کو پا لیتا ہے اور بچوں کی مانند دل میں مان بھی لیتا ہے۔
لکھتے ہیں:
ایک تاجر سے پوچھا گیا کامیابی کیا ہے اس نے جواب دیا
When you wake up in the morning, jump out of bed and shout: Great, another day. Then you’re a success.
شہد کی مکھیوں کی زندگی بیان کر کے لکھتے ہیں کہ یہ قدرت کا درس اتحاد ہے اور مل کر کام کرنا ایک قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے قربانیوں کے بغیر اجتماعی عمل ظہور میں نہیں آتا۔
نازک بیل کی مثال سے سمجھایا کہ کس طرح برسوں بعد اس کی جڑیں پکے فرش کو پھاڑ کر باہر آگئیں لیکن پھر لکھتے ہیں کہ بیل کی طرح غیر ضروری جھکاو نہیں بلکہ درخت کی مانند مضبوط بننا ہے کہ جس کی جڑیں اتنی ہی مضبوطی سے پھیلی ہوتی ہیں جتنا تناور درخت ہوتا ہے۔۔
زندگی کےاسٹیج پر ہمارے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے Ben Kingsley کو بیان کیا کہ جنہوں نے بڑے پیمانے پر بننے والی فلم گاندھی کے لیے خود کو کیسے تیار کیا۔۔
اور پھر لکھتے ہیں کہ کیا وہ لوگ جو خود کو خیر امت کہتے ہیں اور ان کو انسانی تاریخ میں اہم ترین کردار ادا کرنا ہے کسی تیاری کے بغیر یہ مشکل رول ادا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔۔اس کے تبصرے کا حق تو ادا نہیں ہوسکتا کہ یہ سوز دل ہے، اور دل کی بات پر تبصرہ آسان نہیں ہوتا۔

1987 میں مکتبہ الرسالہ دہلی سے شائع ہونے والی یہ خوبصورت کتاب پڑھنے لائق ہے، دل میں خود اترتی ہے، عمل بھی کروا لیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *