فلم دا ریڈر پر تبصرہ، نمرہ قریشی

Film : The Reader
Written By : David Hare
Diracted By : Stephen Daldry
Cast : Kate Winslet , Ralph Fiennes , David Kross
جنگ عظیم دوم پر بیشتر موویز بنائی گئیں اور ان میں دہشت و وحشت بربریت سب کچھ دکھایا گیا اسکے علاوہ یہ دور اپنے اندر ہزاروں کہانیاں ہزاروں راز دفن کرکے گزر گیا لیکن کچھ کہانیوں نے خود کو زندہ کیے رکھا کچھ راز ماضی کی قبروں سے برآمد ہوتے رہے …
بہت سے مصنفین نے ان کہانیوں کو قلمبند کیا جن میں سے آج میں The Reader ناول پر بنائی گئی فلم پر بات کروں گی …
یہ ناول لکھا Bernhard Schlink نے جبکہ اسی نام سے فلم کی صورت پیش کیا Stephen daldry نے .
یہ دور ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دوبارہ سے بسنے والے جرمنی کا جہاں ہانا ایک سیکریٹ لائف گزار رہی ہے ….
فلم کی کہانی انتہائی کربناک ہے …
اور یہ کربناک قصہ شروع ہوتا ہے 36 سالہ ہانا کے 15 سالہ مائیکل سے افیئر کے ساتھ … اس افیئر کی وجہ کیا بنتی ہے یہ اپ مووی دیکھ کر ہی جان پائیں گے … یہاں اس ریلیشن کو بہت باریک بینی سے دکھایا ہے ڈائریکٹر نے جو کہ صرف ایک سنجیدہ فلم بین ہی دیکھ اور سمجھ سکتا ہے …
فلم کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جب مائیکل کو بنا بتا کر چھوڑ کر جانے والی ہانا اسے کمرہ عدالت میں ملتی ہے اور یہاں اسکی سیکریٹ لائف کے بابت مائکل کو پتہ چلتا ہے جو خود کو کوستا ہے کہ وہ ایک ایسی عورت کے ساتھ ریلیشن میں تھا جس کے سر بہت سے معصوموں کا خون ہے …
ٹرائل کمپلیٹ ہوتا ہے اور ہانا کو سزا سنا دی جاتی ہے …
20 سال گزرتے ہیں ہانا بوڑھی ہوچکی ہوتی ہے اور یہاں سے محبت کی یہ کربناک کہانی ایسا اختتام دے جاتی ہے جس کا فلم بین نے سوچا تک نہیں ہوتا جو فلم دیکھنے کے بعد بھی گھنٹوں اپنے سحر میں مبتلا کیے رکھتا ہے اگر اپ بیحد جذباتی ہیں تو اسکا اختتام آپکو رونے پر مجبور کردے گا …

فلم میں کیٹ ونسلیٹ نے اپنے کیریئر کی بیسٹ پرفارمنس دے کر آسکر اپنے نام کیا اور یہ بیسٹ پرفارمنس Ralph Fiennes کے ساتھ سے ہی اتنی جاندار بنی …
اسکے علاوہ فلم بیشتر ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہے.

بہت کچھ لکھنے کو ہے مگر سپائلر ہوجائے گا بمشکل اتنا ہی لکھ پائی لیکن یقین جانیں یہ فلم ایک ماسٹر پیس ہے بہت سالوں بعد ایسی موویز بنتی ہیں اگر اپ نے نہیں دیکھی یہ مووی تو فورا” دیکھیں …
لیکن یاد رکھیں
اس مووی کو دیکھنے کے لیے اپکا انتہائی سنجیدہ فلم بین ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ اپ اس مووی سے خود کو کوسوں دوور رکھیں تو بہتر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *