Kingdom Of Heaven ( 2005 )

نمرہ قریشی

رائز اف ایمپائر سیزن کے بعد اسی طرز کی ایک مووی دیکھنے کا اتفاق ہوا مگر یہ ترک پیشکش نہیں بلکہ ہالی ووڈ کی پیشکش تھی .
کتابوں میں تاریخ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا بہت نام سنا پڑھا مگر اس پردہ سکرین پر دیکھنے کا اتفاق پہلی بار ہوا جس شامی اداکار غسان مسعود نے یہ کردار نبھایا بلاشبہ اس نے بہترین اداکاری کی ایک مسلمان ہونے کے باعث اس کردار کو دیکھ کر آپکو بیحد مسرت ہوتی ہے …
دوسری طرف یروشلم کے کنگ نائٹس اور واریئرز اور کوئین کا کردار نبھاتے اداکاروں لیام نیسن اورلینڈو بلوم اور ایوا گرین نے بھی اپنے کرداروں سے انصاف کیا کنگ سے بیحد ہمدردی ہوجاتی ہے اسکا ایک اچھا انسان ہونے اور اسکی بیماری کے باعث کنگ کا رول ایڈورڈ نورٹن نے پلے کیا ..
فلم بنائی گئی ہے صلیبی جنگ پر جس میں مجھے لگا کہ شاید اس فلم کے ذریعے یروشلم کھونے کا کچھ دکھ کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ناظرین کو دکھایا جارہا ہے کہ پروشلم اتنی آسانی سے مسلمانوں کے حوالے نہیں کیا گیا …. اس مقدس شہر پر اتنے سالوں حکمرانی کرنے کے بعد اسے کسی اور کے حوالے کرنا واقعی آسان نہ تھا لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح کے بعد تمام لوگوں کو آزاد کرنے کی وہ مثال قائم کی جس مثال کے دشمن اج بھی معترف ہیں اور اس فلم میں بھی اسے فلمانے کے دوران کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی بلکہ سلطان کا بیت المقدس میں داخل ہونے کا سین فلما کر مسلمانوں کو خوشی کا ایک اور موقع فراہم کیا گیاا.
زیادہ تر فلم صلیبیوں پر ہے مگر یقین جانیں فلم بیحد متاثرکن ہے میرے پاس الفاظ نہیں کہ اس پر ایک جامع تحریر لکھ سکوں .
ایڈیٹنگ ، بیک گراؤنڈ میوزک وار سینز ڈائیلاگز تمام تر بہترین ہیں اور اس سے بھی بہترین بات کہ جب بھی مسلمانوں کے سینز پردہ سکرین پر آئیں گے تب صلیبیوں کی شدت پسندی نظر نہیں آئے گی بلکہ ڈاریکٹر نے حقیقت دکھانے کی کوشش کی ہے خاص طور پر جب نائٹ بیلیئن کو اس کا ساتھی کہتا ہے صلاح الدین رحم نہیں دکھائے گا تو وہیں صلیبیوں نے بھی جنگ کے دوران کوئی رحم نہیں دکھایا ……..
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر جنگوں میں مخالف پر رحم کیا جائے تو جنگ ہی کیوں کی جائے ؟
جنگیں ہوتی ہی بے رحم ہیں .
اور انہیں لڑنا صرف بہادر لوگوں کا ہی کام ہے .

تین گھنٹے کی یہ بہترین فلم اپ سب کو ضرور دیکھنی چاہیے .
شکریہ
Kingdom Of Heaven ( 2005 )
Action / Drama / Adventure
Director : Ridley Scott
Writer : William Monahan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *