مصحف.. تبصرہ:ایمان عائشہ

میریپسندیدہکتاب

مصحف

مصنفہنمرہاحمد

‘مصحف ‘ یہ کہانی ہے’ محمل ‘ کی ،جو سنہری کنچن سی آنکھیں لیے سنہری ہی رنگت اور بھورے بالوں کے ساتھ اونچی پونی بنائے.. کہ ذرا وہ گردن کو جو دائیں کرتی، تو اونچی پونی ہل ہل جاتی ، اور جو سر کو ذرا نیچے جھکاتی، اونچی پونی کچھ اور نمایاں ہوکر اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی، اکثر لمبی سی قمیض کے ساتھ گلے میں مفلر اور جینس میں ملبوس پائی جاتی ہے لیکن جب سے مصحف(قرآن شریف) سے تعلق کا آغاز ہوا، تو اب مفلر کی جگہ گلابی اسکارف نے لے لی ہے اور پھر گلابی اسکارف کے بعد رنگت بھی سنہری سے کچھ گلابی سی ہوگئی ہے،
کہانی کا ایک اور کردار ہے ‘فرشتے’ جوکہ محمل کی ہی گمشدہ سوتیلی بہن ہے ، جو مسجد میں موجود خواتین کے مدرسے میں مصحف ( قرآن شریف) کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ نہایت اعلیٰ اخلاق کی حامل ہیں، اکثر کالے عبایہ کے ساتھ سرمئی گرے اسکارف اوڑھے محمل کی طرح سنہری آنکھوں اور بھورے بالوں کی حامل دوشیزہ ہیں۔
ان ہی کے ‘درمیان’ ایک اے- ایس- پی ہمایوں بھی ہے جن کی وجاہت کا سماں مصنفہ نے کچھ اس طور سے باندھا ہے کہ قلم صفحہ قرطاس پر بیان کرنے کی تاب لانے سے قاصر ہے، ‘درمیان’ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ بیک وقت دونوں ہی بہنوں کے دل اس اے۔ ایس۔ پی صاحب پر آٹکے ہیں..
کچھ اور لوگ بھی کہانی کا کردار ہیں کہ جو ایک ہی گھر میں رہائش پزیر ‘محمل’ کے نام نہاد رشتہ دار کہلائے جاتے ہیں، کہ مصنفہ نے ان کی چال ڈھال رنگ و روپ حتی کے بالوں کے رنگ و ڈریسنگ کے متعلق کوئی تعریف کے قلابے استعمال نہیں کیے کہ شاید وہ تفصیلات مرکزی کرداروں کے لیے ہی مخصوص ہوا کرتی ہیں، کامیاب کہانی کار وہ ہوتا ہے جس کی کہانی کو پڑھتے ہوئے قاری اپنے زماں و مکاں سے نکل کر کہانی کے کرداروں میں کھو کر اس کہانی کے زماں و مکاں کے ساتھ جینے لگے۔
بے شک’ مصحف’ ناول اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔

‘مصحف’ کہانی ہے امانت میں خیانت کرنے والوں کی، ان ہی نام نہاد خاندانی رشتوں کے ناروا سلوک کی، ظلم و جبر کی، حسد و بغاوت کی، طاقتور طبقے کی طرف سے کمزور حیثیت کے حامل طبقے کو دبانے کی، جس کی شکار اس کہانی میں ہمیشہ سے’محمل’ اور اس کی والدہ رہیں۔
یہ کہانی ہے کبھی نہ کبھی وارد ہونے والے مکافات عمل کی کہ آخر کار ظالم اپنے کیے گئے ظلم کی بدولت فلاں پائے گا ، اور ظلم وجبر سہنے والا، مظلوم بھی آخرکار ایک دن فلاں پائے گا ۔

اس کہانی میں ‘محمل ‘ کا رویہ رشتہ داروں کے ناروا سلوک کو برداشت کرکرکے اپنے حق کو دوسروں کی دسترس میں مبغوث دیکھ کر خود رو کانٹے دار جھاڑی کی طرح ہوچلا ہے ۔ ایک جگہ ‘ فرشتے’ اپنی بہن ‘محمل’ کو اس کے رویے کی تلخی کو مٹھاس میں بدلنے پر زور دیتی ہے کہ رشتہ داروں کی خدمت کرنا بھی ثواب کا کام ہے.. ‘ محمل’ فرشتے کی بات مان کر اپنا احتساب کرکے آخر خود بھی ماں کے ساتھ رشتہ داروں کی خدمت میں جت جاتی ہے ۔
کہانی کار کے باندھے گئے سماں اور لفظوں کی خوبصورت انجمن میں یہاں مجھے اختلاف رائے کا حق حاصل ہے کہ..
آخر ‘محمل ‘ نے اپنی ہی ماں کو اپنے ہی گھر میں نوکرانی بنے دیکھ کر کیسے صبر کا گھونٹ پی لیا اس پر انہونی یہ کہ اس خود سر لڑکی نے صبر کی انتہا پر پہنچ کر زہریلے رویے سہنا، اور وہ بھی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس کی قیمت لگاڈالی تھی۔
کیا وہ خدمت کے لائق ہیں؟
یہ خدمت نہیں یہ تو ظالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
دین جہاں خدمت و ایثار کا سبق دیتا ہے وہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا بھی سبق دیا گیا ہے، کسی کے ظالم بننے میں جتنا وہ خود وجہ ہے اتنا ہی مظلوم بھی قصور وار ہے، ظلم سہنا صبر نہیں جبر ہے اور جان بوجھ کے اپنی جان پہ جبر کرنا حرام ہے۔

کہانی میں مصنفہ نے واضح کیا ہے کہ اکلوتی لڑکی کی جائداد میں چچا اور تایا بھی شرعی حقدار ہوتے ہیں، اگرچہ والد اپنی زندگی میں جائداد اپنی اکلوتی بیٹی کے نام کرجائے، پھر بھی وہ غیر منصفانہ تقسیم کہلائے گی..
مصحف کہانی ہے اس ایثار و محبت کی کہ ‘فرشتے’ نے اپنی بہن کے لیے اپنا پیار ‘ہمایوں ‘….’محمل’ کے حوالے کردیا لیکن جب وقت اور حالات کی تیز آندھیاں چلیں تو ‘محمل ‘ پر محبوب کی جانب سے برتی گئی بے رخی کے بعد اسے یہ ادراک ہوا کہ اصل میں ‘ فرشتے’ اس کی بہن اس کی خوشیوں کی قاتل ہے، جو سچائی اور صداقت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ہی نفس کی غلام ہوچلی ہے ، بدلے میں قرآن کا نور اس سے چھنتا چلا گیا ۔
اس موقعہ پر ‘ محمل ‘ قرآن شریف کی آیت بیان کرتی ہے کہ
“اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرکے زمین کی طرف جھکتے چلے گئے کہ پھر ان کی زبانیں کتوں کی طرح حرام کی طرف لپکنے لگیں۔
اگر دیکھا جائے تو پوری کہانی ہی اسی آیت کے گرد گھوم رہی ہے.
بہن کی محبت میں ‘فرشتے ‘ اپنے کیے پر نادم ضرور ہے مداوا بھی کردیتی ہے لیکن اب ‘محمل’ واپس پلٹنے کو تیار نہیں ۔

مجموعی طور پر کہانی.. مصحف (قرآن شریف) کی آیات سے دلائل لینے انہیں اپنی زندگی پر لاگو کرنے کے گرد گھومتی ہے۔
اردو کی تفاسیر کو بالائے طاق رکھ کر عربی صیغہ کے الفاظ کے اصل لغوی معنی کو سمجھ کر حقیقی واقعات کو جاننے اور ان واقعات میں چھپے راہ نمائی کے اصولوں کو سمجھنے کے گرد گھومتی ہے ۔
لیکن ایک جگہ ہمایوں اپنی بیوی ‘محمل ‘ کی ہر بات میں مصحف ( قرآن شریف) سے راہ نمائی لینے کی عادت پر کہتا ہے..
“جیسے ایک ہی تصویر کو ہر شخص اپنے ہی زاویے سے دیکھتا ہے مثلاً نقاد اس کی خامی ڈھونڈتا ہے ، شاعر اس کے حسن میں کھو جاتا ہے ، عام آدمی اسے سرسری سا دیکھتا ہے ، سائنس دان کسی اور نظر سے دیکھتا ہے… سو تم بھی مصحف ( قرآن شریف) کیوں کو اپنے نظریے سے ہی دیکھتی ہو “
کیا پتہ ہم میں سے مختلف افکار لیے احباب بھی ‘ہمایوں’ کی اس بات سے سہمت ہوں.. ‘محمل’ ناول کا ایک مرکزی کردار ہے لیکن حقیقی دنیا میں ایسا کردار ہمیں شاذ ہی ملے..
لیکن اس ناول کو پڑھ کر مجھے لگا ‘مصحف’ ناول پڑھنے کے بعد آپ ضرور میری طرح تجسس میں مبتلا ہوکر مصحف ( قرآن شریف) کو کھول کر ‘محمل’ کے طریقے سے مصحف ( قرآن شریف) پڑھنے کی کوشش ضرور کریں گے، تفاسیر میں چھپی بات کو سمجھ کر اسے ‘محمل ‘ کی طرح اپنی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ضرور کریں گے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *