من چلے کا سودا.. تبصرہ:محمد ذیشان مسعود

من چلے کا سودا

یہ کتاب ان کتابوں میں سے ہے کہ جو دستیاب اور خواہش ہونے پر بھی میں نے قصداً نہیں پڑھی تھی جسکی صرف ایک وجہ یہ تھی کہ یہ ایک ڈرامہ ہے اس لیے اس کے مطالعے سے باز رہا۔

لیکن بس ایک دن اچانک یونہی کہ یار دیکھوں تو سہی۔۔۔ اور پتہ تب چلا کہ جب 100 سے زیادہ صفحات پڑھ چکا تھا اور مزید پڑھتا چلا گیا۔۔۔۔ پھر جب مکمل کر چکا تو دل چاہا کہ اب ڈرامہ بھی دیکھوں مگر ایک قسط بھی مکمل نہ دیکھی ہو گی کہ یہ ادراک ہوا کہ کتاب کے خاکے اور پرسیپشن اور اسکی تاثیر کہیں ماند نہ پڑ جائے۔

بہت ہی سادہ کہانی ہے اور اس بھی سادہ الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ یقیناً تصوف یا صوفی ازم اسکا موضوع ہے۔۔۔ کوئی ایسا ہے کہ جسکا گھر بار بہت عام سا ہے بلکہ عام سا سے بھی کمتر ہے مگر پر سکون ہے۔۔۔۔ “یہ حق ہے، یہ سچ ہے”
اور کوئی ایسا ہے کہ جو گاڑی بنگلے زمین جائیداد فیکٹری اور بینک بیلنس کا مالک ہے مگر اسکی جستجو کچھ اور ہے، تلاش کچھ اور ہے۔۔۔۔ اس تلاش میں وہ کبھی کسی خاکروب سے ملتا ہے اور کبھی کسی ڈاکیے سے۔۔۔۔

پوری کتاب میں بہت سے “کیا، کیوں اور کیسے” ہیں۔ جو کبھی محبت کے بارے میں ہیں کبھی سائینس کے متعلق ہیں تو کبھی اخلاقیات سے جڑے ہیں۔

یہ کتاب شاید یا میرے مطابق ایک طرح سے سیلف ہیلپ بک بھی ہے۔ یہ آپکو چپکے سے بتاتی ہے کہ مرض کیا ہے اور یہ جان لینا ہی ایک بڑی کامیابی ہے کہ اصل میں مرض ہے کیا اور کہاں۔۔۔۔ انسان ساری زندگی سکون کی تلاش میں پھرتا رہتا ہے کبھی یہاں جاتا ہے کبھی وہاں۔۔۔ سو جب آپکو پتہ چلتا ہے کہ سکون مل کیوں نہیں رہا، جب یہ تشخیص ہو جاتی ہے تو پھر آپ اسکے حل یا علاج کے لیے بھی سرگرم عمل رہتے ہیں۔۔۔
مزید اچھا یہ ہے کہ یہ کتاب شعوری یا لاشعوری طور پر آپکا اسکا حل بھی بتا دیتی ہے۔۔۔۔

کتاب کہتی ہے کہ سارا مسئلہ “Dichotomy, Duality” یا دوئی ہے اصل میں کہ دل کچھ کہہ رہا ہے اور دماغ کچھ۔۔ جب تک یہ تضاد ختم نہیں ہوتا تب تک سکون محال ہے اور اسکا حل صوفی ازم بتایا گیا ہے۔۔۔

عموماً صوفی ازم یا تصوف کے معنی الله کے کاموں میں دل کا لگ جانا سمجھا جاتا ہے، اسی کے ذکر و اذکار کرنا وغیرہ وغیرہ۔ مگر کتاب یہ کہتی ہے کہ اصل تصوف الله کے بندوں کے کاموں میں لگ جانا ہے، انکے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ذکر و اذکار اسکا سہارا ہیں۔ اصل کام اپنے اخلاق و کردار اور معاملات کو درست کرنا ہے کہ جب تک یہ نہیں ہو گا کچھ نہیں ہو گا۔ اور جب آپ یہ کر لیتے ہیں تو آپکے لیے سب راہیں سب گرہیں کھل جاتی ہیں۔

من چلے کا سودا واقعی من چلے کا ہی سودا ہے۔۔۔عقل والوں کا اس میں کام نہیں یہ دل والوں کی دنیا ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *