کفر شکن ، محی الدین نواب

تاریخی ناول : کفر شکن
مصنف : محی الدین نواب

تبصرہ : ایمان عائشہ

وقت کی گرد بہت ہے ذرا جھاڑ لوں ، کچھ ماہ و سال نہیں بلکہ صدیوں کے پڑے زنگ آلود قفل کو کھول لوں..
سوچیئے… وہ جنت کیسی ہوگی جسے خدا نے اپنے نیک بندوں کو نیک اعمال کے عوض دینے کا وعدہ کیا ہے؟ قرآن مجید میں جس حد تک اس کا ذکر ہے وہ کس قدر خوبصورت اور عبادت گزار بندوں کے لیے آرام دہ ہوگی ۔اس اندازے کے مطابق حسن بن صباح نے ویسی ہی ایک جنت اس دنیا میں بھی قائم کی تھی اور خدائی کا دعوٰی کیا لیکن خدا کی طرح قائم نہ رہ سکا..
سرورق نما دروازہ کھولتے ہی میری نظر قلعہ الموط پر جا ٹھہری جہاں حسن بن صباح قلعہ میں کھڑا اپنے فدائیوں سے مخاطب ہوکر انگلی سے انہیں قلعہ سے کود کر اپنی جان دینے کا اشارہ کرتا ہے جسے سمجھتے ہی فدائی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بلندو بالا قلعہ سے چھلانگ لگا ڈالتے ہیں، حسن بن صباح کی جنت کے تذکرے سن سن کر فدائی جان دینے میں بے حد خوش ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ وہ اپنے شیخ الجبل(حسن بن صباح) کا حکم مان کر سیدھا اس کی بنائی ہوئی جنت میں جائیں گے..

ورق پلٹ گیا..

اور اسی اثناء میں گھوڑوں کی دھمک لیے، درندگی و بربریت کی داستانوں کے ساتھ ان گنت فتوحات کا نوحہ کرتی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرتے منگول آکھڑے ہوئے۔
برفانی علاقے میں سخت سردی میں وہ قہقہے لگاتا اپنے ہی کسی دشمن کی کھوپڑی میں شراب پی کر کہہ رہا تھا میں ہلاکو خان چنگیز خان کا پوتا.. وہ چنگیز خان جو جانوروں کی آنتیں تک نکال کر کھالیتا تھا، وہ چنگیز خان جس کی آنکھیں رات کو تاریکی میں بھی دشمن کو تاڑ لیتی تھیں وہ چنگیز خان جو اپنے دشمن کا خون پی جاتا تھا میں اسی چنگیز خان کا پوتا..

ورق پلٹا گیا …

ہلاکو کی عیسائی محبوبہ دو قوزہ جو کہ اصل میں ہلاکو کے باپ تولوئی کی بیوی اور ہلاکو کی سوتیلی ماں.. اپنے ہی شوہر تولوئی کو زہر کا پیالہ پلا کر ہلاکو کے حرم میں آنے کی شرط لگاتی ہے کہ پہلے اس کے لیے مسلمانوں کی کھال سے بنا بستر سجایا جائے ….
ہلاکو دوقوزہ کی بات مان کر پھر بے دریغ قتل کرتا چلا گیا
اور دوقوزہ ہر دفعہ اس وحشی سے کچھ اور تعداد میں ہلاکتوں کا مطالبہ کرتی چلی گئی..

ورق کچھ اور پلٹ گئے..

وہ ایک آنکھ سے کانا بہت قد آور اور صحت مند شخص تھا بائیں ہاتھ میں تلوار لیے اور بائیں آنکھ میں ہی چرمی غلاف چڑھائے سرعت سے ایک چٹان سے نکل کر سامنے آیا اس کا نام ‘بیبرس’ تھا جوکہ قپچاق قبیلے کا ایک ترکی باشندہ تھا، جس کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا جب کہ اس دور میں مسلمان ہر طرف منگولوں کے نام سن کر تھرا اٹھتے تھے..

ایک اور ورق پلٹا تو….

ہلاکو خان دوقوزہ کو ساتھ لیے فتوحات کرتا آخر ایک دن حسن بن صباح کی جنت میں جاپہنچا … وہ جنت کے جس کی مٹی مشک کی تھی وہ جنت کہ جس میں دودھ کی نہریں قطرہ قطرہ شہد ٹپکا کر کچھ اس طور سے بہائی گئی تھیں کہ اس کا لذت دار ذائقہ پینے والے کو ترواٹ بخشتا، اس جنت میں قمقمے کچھ ایسے نصب کیے گئے کہ رات میں بھی دن کا سماں ہوتا اور دن میں سحر کی سے چھاؤں طاری رہتی..
وہ جنت کہیں سے بھی اس جنت کے مقابل نہیں تھی جو جنت خدا نے اپنے بندوں کے لیے بنائی تھی… لیکن وہاں کے باشندوں کے لیے پھر بھی کشش کا باعث تھی۔
ہلاکو خان کے گھوڑوں کی ٹاپ سے اس جنت کا نظام جو برسوں کی محنت سے منظم کیا گیا لمحوں میں تہس نہس ہوگیا… اجاڑ ویرانی جنت سے بھاری مقدار میں سونا چاندی حوریں اور غلمان چرا لیے گئے ..

اگلا ورق…

تاتاری چنگیزی فوج تیزی سے اب بغداد کی طرف بڑھتی شہر کے دروازوں سے اندر گھستی جارہی تھی ، ہلاکو کی طرف سے عام خونریزی کا حکم ہوا قتل و غارت کا بازار گرم ہوتے ہی عورتیں اور بچے سر پر قرآن مجید رکھے واویلا کرتے بھاگنے لگے.. تاتاریوں نے نیزے کی انی پر بچوں کو اچھال دیا ، لاکھوں مسلمان مارے گئے، شاہی کتب خانوں کے علمی ذخائر دجلہ میں بہا دیئے گئے.. حتی کے کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی سیاہ پڑگیا..

ایک اور ورق پلٹا جاچکا…

ایسے وقت جب مذہب آخری ہچکی لے رہا تھا ‘بیبرس’ میدان میں آیا وہ سلطان بننا نہیں چاہتا تھا وہ کہتا تھا اب مسلمانوں کو سلطان کی نہیں ایک اتالیق کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کو چابک مار کر سیدھا کرے بہت کم مدت میں مسلمان بیبرس کا نام سن کر کانپنے لگے، دن کا بیشتر حصہ بیبرس فوجیوں کو عسکری تربیت دینے میں گزارتا جبکہ ان کے آرام کرنے پر عبرتناک سزا دی جاتی تو کسی فوجی کی شجاعت پر خوش ہوکر انعام سے نوازا جاتا..
البتہ اس وقت کے علمائے حق بیبرس سے نالاں سے تھے، بیبرس اپنے دور کا واحد سرپھرا مسلمان تھا جو بیک وقت منگولوں کے خلاف جنگی تیاریاں بھی کررہا تھا اور مسلمان شرپسندوں کے سر بھی کچل رہا تھا..
ہلاکو نے اپنے مقابل بیبرس کی جرات مندانہ کوششیں دیکھ کر ایک دن بیبرس کو خط بھجوایا کہ اے ایک آنکھ والے شیطان! تیری حیات کے دن پورے ہوچکے، حقیر کیڑے کی طرح گھسٹتا ہوا میرے پاس آجا ورنہ تیری آنکھوں کے سامنے تیری کھال کھینچوں گا کیونکہ میری محبوبہ تیری کھال کے بستر پر سونا پسند کرے گی..

اگلا ورق….

بغداد کے بعد مصر کی صورتحال کافی خراب تھی عجیب افراتفری تھی منگولوں نے سب کچھ تہس نہس کرڈالا تھا، ان دنوں بیبرس اپنا سکون کھو بیٹھا تھا کیونکہ وہ تاتاری قوم کے مقابل لڑنے کی مشقیں تو کرواچکا تھا لیکن اس کے نزدیک ہلاکو جیسے دشمن کو للکارنا بچوں کا کھیل نہیں تھا، جب ہی دھیرے دھیرے پیش قدمی کرتے ہوئے بیبرس کی فوج کے سامنے ہلاکو خان کی فوج آن کھڑی ہوئی اور خوش قسمتی سے ہلاکو خان کا سوتیلا بھائی برقائی خان بھی اسلام قبول کرکے اپنی فوج سمیت مسلمانوں کی حمایت میں میدان میں آپہنچا..
کوئی کتنا ہی خونخوار درندہ ہوتے ہوئے کتنی ہی زبردست فوجی قوت رکھتا ہو کبھی نہ کبھی شکست کا منہ بھی دیکھتا ہے حملہ ہوا تین طرف سے ہوا تلواریں چلیں، منجمند دریا گھوڑوں کی ٹاپوں سے ٹوٹ گیا، ہلاکو گھوڑے سے بندھا گرپڑا اور برف پر دور تک گھسٹتا چلا گیا، کمزوری طاری ہوئی تو اسے خیمہ میں لے جایا گیا، دوسری طرف دوقوزہ کو میدان جنگ میں ہانکا جارہا تھا وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی کہیں جائے پناہ نہیں مل رہی تھی ۔
وہ مسجدوں میں آگ لگانے والی… پیش امام کے جسم کی بوٹیاں کاٹ کر اس کے منہ میں بھرنے والی.. عورتوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور جوان عورتوں کا سہاگ لوٹنے والی.. اسلامی سلطنتوں کو اجاڑ کر وہاں صلیب نصب کرنے والی.. ہانپ رہی تھی گر رہی تھی سنبھل رہی تھی لیکن کہیں صلیب کا سایہ نہ تھا..
دوسری طرف ہلاکو کو دوقوزہ کے قید ہونے کی خبر ملی تو وہ برسوں کا بیمار نظر آنے لگا…
غم ایسا تھا کہ نقاہت حد سے سوا ہوگئی محبوب کی جدائی کی تاب نہ لاکر روح جسم سے جدا ہوگئی، آنکھیں کھلی کی رہ گئیں، کھلی آنکھوں سے روح قفس عنصری کی طرف پرواز کر گئی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *