ایک شام نے چڑیا کو چگ لیا، مظہر الاسلام

افسانہ: ایک شام نے چڑیا کو چگ لیا

مصنف: مظہر الاسلام

کہانی کئی دن سے روٹھی ہوئی ہے۔ رات رات بھر جاگتا ہوں۔ سارا سارا دن تنہائی کا چلہ کاٹتا ہوں۔ مگر کہانی اس محبوبہ کی طرح ہوگئی ہے جس کے دل میں کسی اور کا خیال آگیا ہو۔ انتظار کا ذائقہ کڑوا زہر ہوگیا ہے اور آنکھیں دکھنے لگی ہیں۔ کل ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے تیز روشنی میں انہیں الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہنے لگا تمہاری آنکھیں تھک گئی ہیں۔ آنکھوں کا درد بھی عجیب ہوتا ہے۔ زبان پر آ کر ٹوٹ جانے والی بات کی طرح، شام کو کسی کے انتظار میں دروازے سے لگی لڑکی کی طرح، ان کورے کاغذوں کی طرح جو میرے سامنے پڑے ہیں اور میری کہانی کے منتظر ہیں۔ اس وقت کئ خطوط میرے ذہن میں آرہے ہیں جن میں کئی دنوں سے میری کہانی نہ پڑھنے کا گلہ کیا گیا ہے۔ ان خطوط میں بھی وہی اداسی ہے جو کہانی کے روٹھ جانے سے میرے جسم پر اگ آئی ہے۔

اچانک ایک چڑیا روشندان سے اندر آتی ہے اور لوٹ پوٹ کر میرے سامنے رکھے کاغذوں پر گرتی ہے۔ پھر اڑ کر روشندان میں جا بیٹھتی ہے۔ میں گھبرا کر کر تھکی ہوئی آنکھوں کی پتلیاں تیزی سے گھما گھما کر اسے دیکھتا ہوں اور پوچھتا ہوں۔ چڑیا تمہیں چوٹ تو نہیں لگی۔ چڑیا اپنے پروں کو پھیلا کر چھانٹی کی طرح ان میں اپنے وجود کو چھانتی ہے اور کہتی ہے۔۔۔۔ تمہارے لئے کہانی لائی ہوں۔۔۔ ایک خوبصورت کہانی۔۔۔ میں روٹھی ہوئی کہانی کو منا کر لائی ہوں مگر وعدہ کرو تم اس کہانی کو المناک انجام سے بچا لو گے۔
یہ کہانی انتہائی ٹریجک دور میں داخل ہونے والی ہے۔ میں یہ کہانی تمہارے حوالے کر سکتی ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ تم اس کہانی کو ٹریجڈی سے بچا لو گے۔

چڑیا کی بات سن کر میرا ماتھا سلگنے لگا۔ جیسے کہانی نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا ہو۔ پہلے تو وہ محبوبہ کے بوسے کی طرح تھا۔مگر پھر اس میں سےماں کے بوسے کی خوشبو آنے لگی مجھے لگا جیسے وہ مجھ سے کہہ رہی ہو۔۔۔۔کبھی میں بھی تم سے روٹھ سکتی ہوں۔ مجھے لکھو۔۔۔ یہ چڑیا میری دوست ہے۔۔۔ بہن ہے۔۔۔ یہ بھی ایک کہانی ہے۔ میں نے چونک کر روشندان میں بیٹھی چڑیا کی طرف دیکھا اور کہا پیاری چڑیا۔۔۔ اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو کیا میں تمہارے لئے ہلدی لاؤں۔۔۔ تمہیں پیاس بھی لگی ہوگی۔۔۔کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟

چڑیا بولی۔۔۔ “یہ کہانی میری بھوک اور پیاس سے بھی ذیادہ اہم ہے۔ میرے ساتھ چلو میں تمہیں کہانی تک چھوڑ آؤں”۔

“مگر اس سے پہلے مجھے کہانی کے بارے میں کچھ بتاؤ تو سہی” میں نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔

چڑیا بولی۔۔۔”میں باغ میں ایک درخت کی ٹہنی پر بیٹھی تھی کہ میں نے ایک لڑکی اور ایک لڑکے کو تنہا کونے میں بیٹھے دیکھا۔ چائے کی پیالی ان کے سامنے رکھی تھی مگر ان میں پڑی چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ وہ دونوں دیر بعد ملے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا۔ مگر اب بھی یقین کرنے کی کوشش کر رہے تھے کیا یہ وہی ہیں یا کوئی اور۔۔۔۔ ان کے درمیان مدتوں کا فاصلہ سمٹ کر پھر پھیل رہا ہے۔

تو کیا یہ کہانی ہے۔۔۔ میرے نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا۔

چڑیا بولی۔۔۔ ہاں مجھے معلوم ہے تمہارے نزدیک یہ کوئی کہانی نہیں ہے۔ کیونکہ تمہیں احساس نہیں کہ یہ کیا کہانی ہے۔ تم ہمیشہ المناک کہانیاں لکھتے ہو۔ اداس کہانیاں۔ تمہاری کہانیوں کی آنکھوں میں آنسو نہ ہو تو تمہیں مزہ ہی نہیں آتا۔ تم اذیت پسند ہو۔ تمہاری ہر کہانی میں موت خوبصورت محبوبہ کی طرح بال کھولے بیٹھی رہتی ہے۔

تمہیں موت سے پیار ہے تم اپنی خود کشی کے لیے راہ ہموار کرتے رہتے ہو خدا کے لیے کوئی تو ایسی کہانی لکھو جس کا کلائمکس خوشگوار ہو۔۔ جس میں آنسو نہ ہوں۔۔ اداسی نہ ہو۔ مگر میں یہ کہانی اس لئے تمہارے پاس لے کر آئی ہوں کہ یہ تمہارے لئے ہے۔ اس میں خود کشی ہے ایک نہیں دو۔۔ مگر اس کہانی کو دوسری خود کشی سے بچانا ہے۔ یہ ایک اداس لڑکی کی کہانی ہے ایک تنہا آدمی کی کہانی ہے۔
میں نے کہا اگر ایسا ہے تو تم اسے امرتا پریتم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت بڑی کہانی نویس ہے۔ اس نے شمی پر بھی کہانی لکھی ہے۔ اس نے کئی لازوال کہانیاں لکھی ہیں۔ میں نے امرتا کی کئی کہانیاں گنوائیں۔چڑیا بولی. سب سے پہلے میرے ذہن میں کافکا کا خیال آیا تھا مگر اب وہ اس دنیا میں نہیں. اگر وہ ہوتا تو سب سے زیادہ وہ اس کہانی کو سمجھ سکتا تھا. اس کہانی میں بھی فیصلے کی ڈور کا سرا لڑکی کے ہاتھ میں ہے بالکل جیسے کافکا کی ذندگی کی ڈور کاسرا اس کی محبوبہ فیلس کے ہاتھ میں تھا. جسے اس نے اتنی زور سے تنکا مارا کہ کافکا پتنگ کی طرح ڈور سے بچھڑ کر تنہائی کے جنگل میں غوطے کھاتا رہا.
کافکا کا ذکر سن کر میں کچھ دیر کے لیے احترام سے چپ ہو گیا اور پھر سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا پیاری چڑیا….. اب تم امرتم پریتم کے پاس جاؤ. یہ کہانی بہت بڑی ہے اسے وہ ہی سنبھال سکتی ہے۔ چڑیا بولی تم درست کہتے ہو مگر اب وقت کم ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ امرتا کے پاس پہنچتے پہنچتے یہ کہانی اپنے انجام کو پہنچ جائے۔ ابھی فور طور پر تمہیں اس کہانی میں مداخلت کرنی ہے اس کہانی کے انجام کو ٹریجڈی سے بچانا ہے۔کیونکہ اس کہانی میں مہندی لگنے سے پہلے ہی بہت بڑی ٹریجڈی ہو چکی ہے۔
“وہ کیسے”؟ میں نے پوچھا
اس کہانی میں جو لڑکی ہے نا۔۔۔ ابھی وہ چھوٹی ہی تھی کہ اس کی گڑیا چوری ہو گئی،وہ بہت روئی۔ ان ہی دنوں وہ مانگ لی گئی۔۔۔۔ اس کے والدین نے اس کی منگنی کر دی مگر ڈولی میں بیٹھنے سے پہلے جب وہ جوانی کی دہلیز سے چند قدم دور تھی کہ اسکے منگیتر نے خودکشی کر لی۔۔۔۔وہ بہت روئی خودکشی کا منظر سفید چادر پر خون کے دھبوں کی طرح اس کے ذہن پر کندہ ہو گیا۔۔۔یہاں تک آ کر چڑیا چپ ہو گئی۔
میں نے پہلو بدلا۔۔۔سگریٹ کا لمبا کش لیا اور سوالیہ نظروں سے چڑیا کی طرف دیکھا۔
چڑیا بولی۔”مجھے معلوم ہے تمہارے ذہن میں بے شمار سوال ہیں مگر یہ سوالوں کا وقت نہیں اٹھو میرے ساتھ چلو دیکھو جس باغ میں وہ بیٹھے ہیں وہاں پھولوں کے رنگ پھیکے پڑ چکے ہیں اور سارے پھولوں سے تنہائی اور اداسی کی مہک آنے لگی ہے۔۔۔۔درختوں کے پتے جھلس گئے ہیں۔
“کیا وہ بچھڑنے والے ہیں”؟
“ہاں۔۔۔یہی تو بات ہے وہ ملنے سے پہلے ہی بچھڑنے والے ہیں۔۔۔۔وہ ابھی ابھی ملے تھے اور شام سے پہلے بچھڑ جائیں گے۔انہوں نے بڑی ریاضت کے بعد ایک دوسرے کو تلاش کیا ہے۔۔۔۔اٹھو میرے ساتھ چلو مداخلت کرو۔۔۔۔”
کیا لڑکی اس سے محبت نہیں کرتی”؟ ۔۔۔۔ میں نے پوچھا۔۔۔
چڑیا سنبھل کر بیٹھ گئی اور بولی۔۔۔۔کرتی ہے۔۔۔۔ وہ اس کے دل میں ہے مگر اس کے اندر دور کہیں کسی اور مرد کا سایہ بھی منڈلا رہا ہے۔وہ اپنی آنکھوں میں اپنے آپ سے چھپتی پھر رہی ہے اور جب تھک جاتی ہے تو اپنی آواز سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔ دم لے کر اٹھتی ہے اور انجانے میں اسے دیکھنے، اپنی آنکھوں تک آتی ہے مگر پھر تیزی سے پلٹ جاتی ہے۔ کچھ دیر ہوئی جب وہ اسے پہلی بار ملی تھی
تو اس کی باتیں ایسی تھیں جیسے مدت بعد کسی خالی اور بند مکان میں کوئی رہنے آیا ہو۔ اس نے اپنے ذات کی ساری کھڑکیاں اور دروازے کھول دیئے تھے۔ مگر تھوڑی ہی دیر بعد جانے کیوں اس نے سارے دروازے بند کر دیے۔ اب اس مکان کی صرف ایک کھڑکی کھلی ہے۔۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔ اٹھو اور میرے ساتھ چلو اگر اس نے یہ کھڑکی بھی بند کر دی تو ظلم ہو جائے گا۔

اسے سمجھاؤ کہ وہ اپنے گداز ہاتھوں کی لکیروں میں بہتے شخص کے لیے دعا کرے۔۔۔ یہ دعا کا وقت ہے۔ تم بھی ان کے لئے دعا کرو۔ میں نے سگریٹ ایش ٹرے میں رکھ کر ہاتھ اٹھائے۔۔۔ ان کے لئے دعا کی۔۔۔ اور سوچا یہ چڑیا کیسی کہانی لے آئی ہے۔

اتنے میں چڑیا بولی۔۔۔ ان کی اس ملاقات کو پھانسی پانے والی شخص کی آخری ملاقات نہ بننے دو۔ اس کی خوبصورت آنکھیں اس کے خوبصورت پیروں کی جھانجھریں ہیں۔ ان کی آواز رقم کرو۔ ان کے دل میں آئے ہوئے خیال کو ٹال دو۔ ان کے ہاتھوں میں گرم جوشی اور بے پناہ پیار کا لمس ہے۔ وہ روٹھنا نہیں منانا جانتی ہے۔ مگر وہ ڈری ہوئی ہے۔ اس کی زندگی میں دور کہیں ایک سفید چادر ہے جس پر خون کے دھبے ہیں۔ اس کےدل میں وسوسے ہیں۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ آنسو ہے جس کے بارے میں تم نے ایک بار لکھا تھا کہ دنیا کے تمام آنسوؤں سے صاف شفاف آنسو۔۔۔ یہ آنسو میلا نہیں۔۔۔ اور تم تو جانتے ہو صاف شفاف آنسو کتنے سچے ہوتے ہیں کیا تم سچائی کا ساتھ نہیں دو گے؟

میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میری آنکھوں میں آنسو اُبلنے لگے۔ میں نے سگریٹ کے دھوئیں کا بہانہ بنایا مگر چڑیا نے بے چینی سے روشن دان سے باہر دیکھا اور بولی۔ چلو اٹھو جلدی کرو’ میرے ساتھ چلو ورنہ آج وہ بچھڑ جائیں گے۔۔۔۔ وہ تو پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہے۔ تنہائی نے اس کے جسم کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ وہ اس لڑکی کی محبت چاہتا ہے اس کی پناہ میں رہنا چاہتا ہے۔ اسے صرف محبت کا دکھ نہیں بلکہ وہ اس محبت سے دوسرے دکھ مٹانا چاہتا ہے۔ وہ گھٹن محسوس کر رہا ہے۔۔اس کی تاریخ پیدائش،ضلع پیدائش اور نظریات پوچھے جا رہے ہیں۔ وہ بہت حساس ہے۔۔۔ معاشرے کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھتا ہے۔ مگر آج جیسا وہ لڑکی کہہ رہی ہے اگر چھٹیاں گزارنے وہ پہاڑوں پر چلی گئی تو برف پگھلنے سے پہلے پہلے وہ خودکشی کرلے گا۔

میں اس کی آنکھوں میں خودکشی دیکھ کر آئی ہوں۔ اٹھو اور شہر کے سارے لوگوں کو بتا دو کہ آج کی شام وہ خودکشی کرلے گا۔ شام، بارش اور تیز ہوائیں اس کی کمزوریاں ہیں۔ ذرا باہر نکل کر دیکھو آسمان بادلوں سے بھرتا جا رہا ہے۔ چڑیا کی آواز بھرا گئی۔۔۔۔ وہ کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئی اور پھر بولی۔ جاتی سردیوں کی یہ ہوا شام تک اس کے خودکشی کے موسم کو جوان کردے گی۔

وہ آج اپنے آپ سے پھر بچھڑ جائے گا۔ وہ پیار کا سایہ مانگتا ہے۔ اس کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ پوچھ گچھ کی تفصیل تمہیں نہیں بتا سکتی۔۔۔۔بس تم سمجھ جاؤ۔

اس کے کوائف بھی نہ معلوم کرنا وہ کوائف معلوم کرنے والوں سے تنگ آ چکا ہے۔ پھر چڑیا نے بتایا کہ وہ اسے لمبی تاریخ دے رہی ہے مگر نہیں جانتی کہ وہ چھٹیاں گزار کر آئے گی تو لوگ اس کی کتابیں بھی آپس میں بانٹ چکے ہوں گے۔۔۔۔۔ وہ سچ ہے، اسے جھوٹ سے بچالو۔ اٹھو شہر کے سب لوگوں کو بتا دو کہ وہ آج شام خودکشی کرلے گا۔

میں تیزی سے اٹھا سگریٹ کا پیکٹ جیب میں رکھا اور بڑی تیزی سے باہر نکل آیا۔ آسمان پر گہرے بادل بڑی تیزی سے جمع ہورہے تھے۔ ہوا تیز ہو گئی تھی اور شام نے پہلے ہی اپنی چادر پھیلا دی تھی جس پر خون کے دھبے تھے اور پورے شہر میں اس کی خودکشی کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ پھر چڑیا نے مجھے باغ کا پتہ سمجھایا اور پھر شہر کے مئیر کو یہ بتانے کے لئے کہ آج شام وہ خودکشی کرلے گا۔۔۔۔ میر کے گھر کی طرف اڑ گئ۔ ابھی میں راستے میں ہی تھا کہ وہ آئی اور کہنے لگی، تیز تیز قدم اٹھاؤ میں شہر کے میئر کو بھی بتا آئی ہوں کہ وہ خودکشی کر لے گا’ تم وہاں پہنچو۔ مداخلت کرو’ لڑکی کو سمجھاؤ۔ جلدی کرو بارش ہونے والی ہے۔ تیز ہوا چل رہی ہے۔ میں شہر کے خاکروبوں، بیروں، چٹھی رسانوں اور مالیوں کو اس کی خودکشی کے ارادے سے آگاہ کر کے آتی ہوں۔ کیونکہ وہ ان کے دل میں رہتا ہے۔۔۔ پھر مجھے اس کی لائبریری بھی جانا ہے جہاں آج شام وہ خودکشی کرے گا۔ اس کی کتابوں سے کچھ کہنا ہے۔ چڑیا اڑتی ہوئی آگے نکل گئی۔ میں باغ کی طرف تیز قدم اٹھانے لگا۔

شام سے کچھ دیر پہلے میں باغ میں پہنچا اور انہیں تلاش کیا۔ کونہ کونہ چھان مارا۔ بے چینی سے ادھر ادھر بھاگا اور آخر ایک کونے میں ایک سائے کو دیکھا جو آہستہ آہستہ شام رنگ میں ڈوبتا جا رہا تھا۔میں تیری سے آگے بڑھا۔ مگر وہ سایہ دور نکل گیا۔ یکدم میرے قدم رک گئے۔ چیخ میرے حلق میں اٹک کر رہ گئی۔ میں نے دیکھا چڑیا پھڑک پھڑک کر مر رہی تھی۔ اور دور تک سہمے ہوئے خشک پتے اس کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *