تحریری مقابلہ

اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا

تحریر : محمد سمیع اللہ

بڑے بزرگ فرما گئے ہیں وہ جوانی ، جوانی نہیں جس میں کوئی کہانی نا ہو۔
عالمی قوانین کے مطابق محبت کے اظہار کے لئے اوپننگ بیٹسمین مرد ہی ہوتا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب موبائل کے نام سے بھی شائد آشنا نا تھے ہم ۔ میری ڈیوٹی گھر میں گوالے کی ہی سمجھئے دودھ لانا  اور دودھ میں دو گلی آگے ایک گھر سے لاتا تھا پہلے تو ایک چھوٹا بچہ باہر دے جاتا پھر شاید وہ اسکول جانے لگا تھا اور اب ایک خوبصورت نرم ملائم  ہاتھ باہر نکلتا ہم سے دودھ کے لئےبرتن لیا جاتا اور  تھوڑی دیر بعد  دودھ پکڑا کر غائب اور حسرت ہی رہ جاتی کہ کبھی اس حسین ہاتھ کے ساتھ کچھ تھوڑا سا  ہی چہرہ بھی نظر آ ہی جائے
وہ چہرہ جو کہ پورا یقین تھا بے حد حسین ہو گا
دودھ ملائی سے گندھا ہوا
لمبی گھنی پلکوں والی کالی آنکھیں گلابی گال
پنکھڑی ہونٹ
حسن کی یہ تعریف کچھ دن پہلے ہی ایک فلم میں ہیرو سے سنی تھی ہیروئن کے لئے
اور بس مجھے یقین تھا میری ہیروئن بھی ایسی ہی ہوگی
پہلی ہی نظر میں ہونے والی محبت  دماغ میں زندگی بھر کی پلاننگ چھوڑ جاتی ہے
ہائے کیسے کیسے اور کیا کیاکریں گے؟؟؟
میں بھی خیالوں میں اس کے ساتھ  مری تک گھوم چکا تھا
کیسے پہنچاؤں اس تک حال دل
بس دن رات ایک ہی بات دل و دماغ میں گھومتی رہتی
لڑکپن کی محبت تھی اور بہت پر جوش
جلد از جلد تکمیل چاہتی تھی
سوچا خط لکھا جائے  اور سوچتے ساتھ ہی لکھ ڈالا خط
اگرچہ دوسرا سال لگا رہا تھا نویں جماعت میں لیکن اردو اچھی لکھ لیتا تھا  بس وہ سارے محبت بھرے ڈائیلاگ حسن کی تعریفیں  جو فلموں میں سنیں جتنا یاد آتا گیا لکھ ڈالا اور خط کو دودھ والے برتن میں رکھا اور پہنچ گیا دودھ لینے  برتن اس خوبصورت ہاتھ میں پکڑاتے اس دن کانپا بھی کہ کہیں وہ اپنے باپ بھائی کو نہ بتا دے لیکن ہوا یہ کہ دودھ جب ملا تو تو اس کے اندر اپنا محبت نامہ بھی تیر رہا تھا
یہ کیا !  دیکھا ہی نہیں!!  دل ٹوٹ سا گیا
نہیں یہ ضرور محبت بھری شرارت ہو گی
جلدی سے دل کو جوڑا
اور اگلے دن اور بہت سارے دیوانگی سے بھرپور جملے لکھ ڈالے اور اس بار خط کے اوپر ایک سرخ گلاب بھی رکھ دیا
اور آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھر سی گئیں جب وہ خط اور گلاب رکھ لیا گیا
وہ سارا دن پھر اس کی گلی میں گزرا  تپتی دوپہر میں جلتے بس یہی آس رہی کہ ابھی دروازے سے ہاتھ نکلے گا میری محبت کا جواب لئے لیکن آس نراس بن گئی
پھر ساری رات صبح ہونے کے انتظار میں جاگا اور خوب رگڑ کر منہ تو دھویا ساتھ ہاتھ پاؤں بھی رگڑ ڈالے
یقین سا تھا ملاقات کا
اب خط کی ضرورت نہ سمجھی کہ وہ تو دوسری طرف کی باری تھی بس سرخ گلاب  دودھ کے برتن میں رکھا
اور برتن  اس ہاتھ کو پکڑا دیا
اگلے لمحے دروازہ تھوڑا سا زیادہ کھلا جیسے کہ کوئی جھانک کر مجھے دیکھ رہا ہو
جلدی سے خوشبو بھرے تیل سے جمے بالوں کو ہاتھ پھیر کر اور جمایا  کچھ دھڑکن بھی تیز ہونے لگی تھی کہ یک دم دروازہ پورا کھل گیا اور ساتھ ہی میری آنکھیں بھی پھیل گئیں  ڈر سے
سامنے ایک صحت مند خاتون تھی
کاکے دودھ  لینے تو ای آتا روز
اس نے مجھے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا
جج جی جی 
دبنگ سی خاتون کو دیکھ کر میری تو سانسیں ہی رکنے لگی یہ سوچ کر  کہ میری محبوبہ نے سب کچھ اپنی ماں کو بتا دیا
کاکے آ جا اندر ہی
نئیں جی بس ادھر ہی پکڑا دیں دودھ
میں کچھ قدم اور پیچھے ہٹا
اندر گیا تو پھینٹی پکی
او نہ شرما کاکے  تجھ سے کیا پردہ  مجھے تو پتہ ہوتا تو آتا دودھ لینے تو اٹھ کر نہ آتی روز دروازے تک  کھلا تو ہوتا دروازہ  تو خود ہی اندر آ کر کے لے جاتا  چل آ جا اب تجھ سے کچھ پوچھنا بھی
وہ دبنگ خاتون میری کچھ سنے بغیر  مجھے اندر آنے کا کہہ کر چلی گئی اور مجبوراً مجھے پیچھے جانا پڑا
لیکن یہ کیا بول رہی تھی کہ مجھے دروازے پر نہ آنا پڑتا تو کیا وہ ہاتھ ! نہیں نہیں وہ یقیناً اس کی بیٹی کا ہی ہوگا  میں نے خود کو تسلی دی اور اندر جاتے ہی نظروں کو چاروں طرف گھمایا اپنی حسین محبوبہ کی جھلک دیکھنے کے لئے
آ ادھر آ کے بیٹھ اور ناں وی دس
برآمدے میں دودھ سے بھرا بڑا سا دیگچہ پڑا تھا ساتھ دو پیڑھیاں وہ ایک پر خود بیٹھ گئی اور دوسری مجھے پیش کی  اور  کاکے اے گلاب دا پھل کل وی تے اج وی  تیرا کوئی باغ اے   تے اے کل اک کاغذ وی سی  کوئی خط لگدا
سی  پر میں چٹی ان پڑھ۔۔۔۔۔
ہن توں او مینوں پڑھ کے سنا  کی توں لکھیا 
اس نے اپنی قمیض کی سائیڈ جیب سے مڑا تڑا سا میرا محبت نامہ نکالا  جو میں نے رنگین کاغذ پر خوشبوئیں لگا کر لکھا تھا اور اب میری حالت قابلِ رحم ہو رہی تھی اپنی ہٹی کٹی گجری محبوبہ کو دیکھ کر
لے پڑھ
اس نے خط دیا تو میری نظر اس کے ہاتھ پر پڑی  جو وہی حسین ہاتھ تھا گوراچٹا 
میں کل دینے لگی تھی گجر صاحب کو پھر سوچا پہلے ویکھاں تے او ہے کون
اس گجری نے گہری نظریں جما کر مجھے دیکھا
و وہ وہ جی یہ تو جی شکریہ کا خط تھا  میری باجی نے لکھ کر دیا تھا  دودھ ب بہو بہت اچھا ہوتا خالص بالکل
اور پھول بھی ہمارے گھر کے اندر لگے جی تو باجی نے ڈال دیئے آپ کے لئےمیں نے محبت نامہ جلدی سے لے کر جیب میں ڈالا  شکر ہے دماغ وقت پر چل گیا اور اچھی کہانی بن گئی تھیاچھا اچھا  میں وی سوچیا اے کون پاگل  گجر صاحب دی بیگم نوں محبت نامے دے ریا۔۔
گجری نے زور سے قہقہہ لگایا اور میں دودھ لے کر بھاگا
کاکےکل سے خود اندر آ کر لے جایا کر   ناں وی نئیں دسیا
پیچھے سے گجری کی بھاری آواز آئی
اور میں نے دروازے سے باہر نکل کر رکی سانسوں کو بحال کیا  اور اس کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کی  زمہ داری لگا دی دودھ لانے کی اس کے بعد تو اس گلی کی طرف بھی رخ کرنے کی ہمت نہ تھی  ڈر تھا یا شرمندگی یا پھر محبت کا دردناک انجام______
وہ میری پہلی محبت  وہ ایک ہفتے کی محبت جس کے کیا کیا سپنے دیکھ ڈالے تھے وہ محبت جس کے انجام پر رونا آیاآپ ہنس سکتے کیونکہ اب میں بھی یاد آنے پر قہقہے لگاتا ہوں 
ہائے وہ دودھ ملائی سے گندھی میری گجری محبوبہ
جو شکر ہے چٹی ان پڑھ تھی نئیں تے آج میرا اے ہتھ نا ہوندا جدے نال لکھ ریا۔۔۔۔
ویسے اس کے بعد مجھے وہ لوگ بہت اچھے لگتے جو خواتین کی تعلیم کے خلاف بولتے 😁😁😁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *