جنت کے پتے ، نینو مغل

میریپسندیدہکتاب

کہتے ہیں شب برات وہ رات ہے جس میں پتے جھڑتے ہیں، جنت میں ایک درخت ہے جس پر ہم انسانوں کے نام درج ہیں ان ناموں کو جنت کی ہوائیں زندگی بخشتی ہیں اور پھر ایک رات جن جن کے پتے جھڑ جائیں موت ان کا مقدر بنتی ہے. جنت کے پتے ہاتھ میں تھامتے ہوئے مجھے نجانے کیوں یہ گماں ہوتا تھا کہ اس کتاب کا تعلق کہیں نہ کہیں اس زندگی و موت کے حامل درخت سے ہے.
میں نے جیسے ہے اسے پڑھنا شروع کیا ایک ایسی لڑکی میرے سامنے آگئی جس کا دین سے تعلق صرف نام کی حد تک تھا. اپنی موج میں جینے والی ایک ماڈرن لڑکی جو آپکو آس پڑوس کے ساتھ ساتھ گھر کے کسی کمرے میں بھی مل جائے گی. پھر اس لڑکی کی زندگی میں ایک گمنام محافظ داخل ہوتا ہے جو دل کے ساتھ ساتھ آبرو کا بھی حافظ ہے ڈھونڈنے پر ایسا کردار شاید آپ کے اندر کسی نکر میں چھپا ہوا مل جائے گا بشرطیکہ آپ میں محبت کا عنصر موجود ہو.
یہ کہانی بیک وقت رومانوی، سسپنس، تھرل، سائنس، سفرنامہ، جاسوسی اور سب سے بڑھ کر اسلامی تعلیمات کا ملا جلا خاکہ ہے جسے بڑے عمدہ انداز میں ایک ناول میں پیوست کیا گیا ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ ہر پلٹا جانے والا صفحہ پہلے سے زیادہ دلچسپ ہوجاتا ہے. آپکی اولین ترجیح ہوگی کہ اسے ایک نشست میں ختم کیا جائے.
کہانی کی بات کریں تو وہ لڑکی سکالر شپ پر ترکی چلی جاتی ہے مگر یہ احساس ہر وقت اسے خوفزدہ رکھتا ہے کہ کوئی ہے جو اسکے ہر آنے والے کل کی خبر آج اس سے بھی پہلے رکھے ہوئے ہے. وہاں اسکی ملاقات مرکزی کردار سے ہوتی ہے مگر وہ پہچاننے سے قاصر رہتی ہے. اسے اس دوران بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر وہی اجنبی شخص سائے کی طرح اسکے ساتھ رہتا ہے.
اس ناول میں مسلسل کئی کہانیاں چلتی ہیں جن کے کردار مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی ہیں یہ کمال لکھاری کا ہے کہ پڑھنے والا آخر تک کچھ فیصلہ نہیں کرپاتا آگے کیا ہوگا. پھر وہ لڑکی پاکستان واپس آتی ہے تو ایک وڈیو سکینڈل اسکی زندگی کو نیا رخ دیتا ہے. وہ بے پردہ سے باپردہ کے سفر میں لگ جاتی ہے. یہاں بھی اسکی مدد وہی انجان شخص کرتا ہے جسے وہ پہچان نہیں پاتی. یہ ناول پرفیکٹ تشریح ہے ایک جاسوس کی زندگی کی اور اس مجاہد کو درپیش مسائل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح مرنے کے بعد بھی وہ گمنام ہی رہتا ہے. ہماری روز مرہ زندگی میں ایسے کتنے ہی کردار آتے ہیں جو یہ ناول پڑھنے کے بعد آپکو سوچنے پر مجبور کردیں گے کہ کہیں یہ بھی کوئی ایسا چھپا ہوا سپاہی تو نہیں.
خیر پھر وہ لڑکی گرتی سنبھلتی مختلف راستوں پر چلتی ہوئی اس شخص کو پہچان لیتی ہے جو گاہے بگاہے اسکے سامنے مختلف کرداروں میں آکر مدد بھی کرتا ہے اور آزماتا بھی ہے.
یہ ناول پڑھنے کے بعد میرے دل میں چند خواہشات نے جنم لیا کہ کاش میں ترکی جا پاتا، میں ایک جاسوس ہوتا اور ہر وہ کام کر گزرتا جس کا اس کتاب میں ذکر ہے. اسے پڑھنے کے بعد آپکو لگے گا کہ جنت کے پتے کے علاوہ اسکا اور کوئی نام ہو ہی نہیں سکتا. کیونکہ محبت چاہے فرد سے ہو یا ملک سے وہ جب تک تازہ ہے زندگی چلتی رہتی ہے ورنہ جنت کی فضا بھی اسے مرجھانے سے روک نہیں پاتی.
نینو مغل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *