جنسی بد فعلی کے متعلق توہمات اور حقائق

جنسی بدفعلی کے متعلق توہمات اور حقائق

زبر جنسی، جنسی بدفعلی یا جنسی زیادتی کے بارے میں کچھ غلط العام عقائد پائے جاتے ہیں اور انہی کو بنیاد بنا کر دوسروں کے متعلق فیصلے داغے جاتے ہیں۔ یہ توہمات غلط تو ہوتی ہیں مگر ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک عام فرد ان پر آسانی سے یقین کر لیتا ہے۔ یہ خیالات سماج میں رائج ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج ہم آپ کو کچھ ایسے ہی خیالات کے بارے میں بتائیں گے اور آپ سے یہ توقع رکھیں گے کہ آئندہ آپ کے سامنے اگر کوئی اس نوعیت کی گفتگو کرے تو آپ اسے آگاہ کریں گے تا کہ بات مجرم پرکریں اور مظلوم پر انگلیاں نہ اٹھیں۔
آتے ہیں ایسے پہلے غلط خیال کی جانب :
1۔ خیال کیا جاتا ہے کہ زبردستی کا شکار ہونے والی خاتون نے ایسا لباس زیب تن کیا جو عریاں تھا، جس سے جنسی خواہش ظاہر ہو رہی تھی یا پھر ایسا رویہ اختیار کیا گیا تھا جس سے جنسی دوعوت ظاہر ہوتی تھی۔ ایسے رویے میں مسکرانا، کسی کو نظر بھر کر دیکھنا وغیرہ شامل ہو سکتا ہے۔
یہ خیال بالکل غلط ہے کیوں کہ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔ ہر کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق حاصل ہے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو بچوں کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی۔
2۔ ایک اور غلط خیال یہ ہے کہ زبرجنسی کا شکار ہونے والی خاتون نے مزاحمت نہیں کی لہذا ، اس فعل میں بد فعلی کا شکار ہونے والی کی مرضی شامل تھی۔
یہ بھی ایک غلط خیال ہے کیوں کہ اس طرح کی صورتحال میں دماغ مفلوج ہو جاتا ہے جسے نفسیاتی اصطلاح میں فریز کہتے ہیں۔
3۔ یہ بھی ایک غلط خیال ہے کہ زبرجنسی کرنے والا فرد اجنبی ہو گا۔
اکثر اوقات زبردستی جنسی فعل کرنے والے افراد میں قریبی دوست، اقرباء، رشتہ دار ، ایک ہی جگہ پر کام کرنے والے لوگ،ایسے افراد جن سے رشتہ توڑ لیا گیا ہو اور کلاس میٹ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
4۔ یہ خیال بھی غلط ہے کہ جنسی بد فعلی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ کسی کا خود پر جنسی کنٹرول نہیں رہا جنسی خواہش بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ جنسی بد فعلی کرنے والا شخص خود کو طاقتور تصور کرتا ہے اور دوسروں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ جنسی خواہش کے حامل لوگ زبر جنسی نہیں کرتے۔
5۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ جنسی زیادتی کرنے والے لوگ ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی ایک غلط خیال ہے کیوں کہ جنسی بد فعلی میں اکثریت لوگ نفیساتی طور پر بیمار نہیں ہوتے۔ ایسی سرگرمی کو جرم سے تعبیر کیا جائے گا اور ایسے فعل کو جرم اور کرنے والے کو مجرم قرار دیا جائے گا۔
یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ ذہنی معذور یا ذہنی مسائل کا شکار لوگ اکثر شکار بنتے ہیں اور مجرم نہیں ہوتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *