لکھ یار

سرگوشی……..نیناں خان

میں تنہا ہوتی ہوں تو اکثر محسوس ہوتا ہے جیسے سناٹا بول رہا ہو جیسے خاموشی سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہی ہو اپنے مرکز سے ہٹ نہ جانا کہیں بھٹک نہ جانا اپنے مدار سے نکلنے والے خساروں میں کھو جاتے ہیں۔ یہ ان کہی سرگوشیاں بہت موئثر ہوتی ہیں یہ ایسے طلسم میں قید رکھتی ہیں جہاں فقط فکر کی دنیا ہوتی ہیں جہاں محاسبہ کا راج ہوتا ہے جہاں خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے جہاں ابدی سکون ہوتا ہے۔ تنہائی کی یہ سرگوشیاں ایسی میٹھی لطافت عطا کرتی ہیں جہاں قلب و روح معطر ہو جاتی ہے جہاں دل و دماغ کی کثافتیں دھل جاتی ہیں پھر تا حد نظر پاکیزگی کا رستہ، عرفان کا رستہ، آ گاہی کا رستہ۔۔۔ اور یہی ابدیت یہی حاصل کا رستہ۔۔۔ شرط فقط سرگوشیوں کی سماعت!!!!

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button