داس کیپیٹل…. تبصرہ: ناہید خلیل

گو کہ میں پہلے واضح کر دوں کہ سو فیصد متفق ہونا ممکن نہیں.. ہاں اس کتاب کے پر پیچ فلسفے اور ساینس ٹیکنالوجی, معاشیات, سماجیات, اصلاحات کا اک بہترین امتزاج ہے جسے کارل مارکس نے,
جو جرمنی کی شہر, “ٹریوس “میں 1818 .میں پیدا ہوا غربت کی زندگی گزاری
اک بہترین تخلیقی ذہن رکھنے والا, 1883.میں دنیا کو مشیور و متنازعہ کتاب )متنازعہ اس نہج سے کہ اس کق رد کرنے کے لیے کئی کتب لکھی گییں ایوارڈ یافتہ بھی ہوییں. لیکن قبولیت عامہ کا درجہ نہ پاسکیں) دے کے رخصت ہوگیے

اور یہ کہ آج سے کم و بیش ڈیڑھ سو سال قبل لکھی جانے والی یہ کتاب. بہت خشک ہے, یہ معاشیات کے جدید بانی, کارل ,نے اپنی زندگی اس کتاب کے لیے وقف کر دی.. یہ شاہ کار نامکمل ہی رہا, کہ زندگی کے آخر تک مارکس اس ہر کام کرتا ہی رہا بہت سے پبلش ہونے سے رہ گیا
ٹالسٹای, ہیگل, فرانسکو گویا, بیتھوون, لیونارڈ ڈانچی,
کی صف میں مارکس سر فہرست ہے
اس کتاب کو سمجھنے کے لیے بار بار پڑہنے کی ضرورت ہوتی یے
سکون کی, وقت کی اور ارتکاز کی, یہ اک نشست, یا صفحات الٹ پلٹ کر کے پڑہنے والی کتاب نہیں….
بنیادی طور پر یہ سرمایہ دارانہ نظام کا اک مکمل اور مفصل تجزیہ ہے, اور اس کا مقصد معاشرے کے سسٹم کو تبدیل کرنا ہے
اک نیے سماجی نظام کی تشکیل,, چونکہ معاشرہ اس وقت بھی تجارت, صنعت, اک حد تک ٹکنالوجی کی اس نہج پر پہنچ جکا تھا کہ انقلاب کے زریعے, پیداور کا مقصد, شرح منافع کے حصول کے بجاے, انسانی ضروریات کے لیے تشکیل دیا جاے سرمایہ داروں کے مذموم مقاصد کو بے نقاب اور محنت کش کو اس کا معاوضہ
بقول علامہ اقبال رح
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر گوشہ گندم کو جلا دو
جبکہ ہماری اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ, مفہوم حدیث
“محنت کش کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ادا کرو “

آج دنیا مٹھی میں ہے, گلوبل ولیج,, مارکیٹنگ کے سوا کچھ نہیں, روپیے پیسے دولت کا تصور بدل گیا ہے
پیپر کرنسی کا وجود نہیں.. بس ٹرانزیکشن آف منی, اک پاسورڈ سے, اک ٹچ سے یہاں سے وہاں. نہ تنخواہ ہاتھ میں آتی ہے, نہ آپ براہ راست خرچ کر سکتے ہیں, اداییگیاں, آن لائن….
سب تجارت اور مارکیٹنگ ہے بس!!
اور دنیا معاشی, سماجی مالی بحران کی زد میں ہے, بیروزگاری کی شرح ہر ملک میں بڑہتی جارہی ہے دوسری طرف مہنگای….
آخر میں حاصل کال یہی کہ یہ کتاب مارکسزم کے نظریات پر مبنی اور سوشلزم کی تعلیمات کی جانب راہ دکھاتی ہے

میری ذاتی راے یہ کہ, دنیا کو اسلامی معاشی نظام, قران وسنت, اور اصل میں مدینے کی ریاست کے نظام, زکوات و عشر, اور اسلامی حقوق و فرائض کی پابندی,,سود سے پاک نظام, قرضہ حسنہ, اور اک دوسرے عدل و انصاف, حقوق و فرائض کی پابندی, مالی معاملات میں دینتداری, اور کسی کے مال کو اپنی جیب میں ڈالنے کے گر کو تجارت نہیں چوری سمجھ کر دور رہنے کی ضرورت ہے.

ویسے یہ کتاب جنھیں فلسفے, اقتصادیات و سماجیات سے دلچسپی ہو ضرور پڑہنا چاہیے.. یہ اک کلاسک ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *