سوچو اور لکھو

سازش

بقلم : ابیحہ مقبول

آج گھر جلدی آئیو، چھوٹے کو تاپ چڑھا ہے رات سے، دوا لینے جانا ہے، اللہ مالک میرے بچے کو ٹھیک کردے۔۔۔
اچھا دروازہ بند کر لے، لے جاوں گا آج شام اسے نکڑ والے ڈاکٹر کے پاس دوا دے گا، چنگا بھلا ہوجانا ہے اس نے۔۔۔۔
(بھلی لوک اللہ جانے کیا سمجھتی ہے، کاروبار تھوڑی ہے کہ جلدی لوٹ آوں گا مرضی سے،مزدوری ہے، دیہاڑی ہے، لگی تو لگی،نہیں تو نہ لگی، اچھا اللہ مالک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سڑک کنارے اچھا خاصا سوٹد بوٹد جینٹیلمین کھڑا پریشان کھڑا تھا
فیکے کو دیکھتے ہی پکارا
او بھائی کوچوان، صدر چلو گے۔۔
فیکے کی آنکھوں میں حیرت اور تجسس نمایاں ہوئے، کہاں اس کا تانگہ، کہاں وہ صاحب بندہ۔۔
بابو شاید فیکے کی آنکھ کا تجسس پڑھ چکا تھا۔۔۔
تانگے میں بیٹھ کر دل ہلکا کرنے لگا۔۔
ہم سے تو لگتا ہے،آپ لوگ بہتر ہو،روز کا تازہ کمایا، تازہ کھایا،جمع کی فکر نہیں، نوکری کا جھنجھٹ نہیں، اب تو لگنے لگا ہے مالک بھی سازش کررہا ہوں جیسے۔۔۔
جینٹیلمین دل کی بھڑاس نکالنے کو بہت کچھ بولتا رہا۔۔
لیکن فیکے کی سوئی “مالک کی سازش”پر اٹکی تھی۔۔
خیر بابو جی کو صدر اتار کر پرانے اڈے پہ آگیا تانگہ لے کر۔۔
رات کی بارش کی وجہ سے دو ایک سواریوں کے علاوہ اور سواری بھی نہ لگی تھی۔۔۔
مغرب کی اذانوں کے بول سن کر تقریبا خالی ہاتھ فیکے نے تانگہ گھر کی طرف موڑا ہی تھا کہ آواز سنائی دی۔۔
تانگے والے، ارے او بھائی تانگے والے،، فیکے کے علاوہ وہاں اور کوئی کوچوان نہ تھا۔۔۔
مڑ کہ دیکھا تو وہی صبح والے بابو جی کھڑے تھے۔۔
تیز تیز چلتے تانگے تک آئے اور پانچ سو کا نوٹ بڑھاتےہوئے کہا۔۔
یہ لو بھئی اور صبح والی جگہ پر محلے کے قریب اتار دینا۔۔
نوکری مل گئی صاحب؟؟
ہاں بہت خوش ہوں میں چلو جلدی اماں کو خبر سناوں جا کر۔۔۔
اور آپ جو کہتے تھے “مالک کی سازش” کے بارے میں وہ۔۔۔
ہاں یار۔۔۔مالک کی سازشوں کا ہمیں کہاں اندازا ہوتا ہے۔۔
اس کی سازشیں بھی تو محبتیں ہی ہیں۔۔۔
محلے کی نکڑ پر بابو جی کو اتار کر گھر کی طرف تانگہ موڑ کر فیکا جیب میں موجود پانچ سو کے نوٹ کو محسوس کر کے مسکرایا تھا۔۔
“مالک کی سازشیں بھی تو محبتیں ہی ہیں”
“ومکرو و مکرواللہ
واللہ خیر الماکرین”
صدق اللہ العظیم۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *