قدرت اللہ شہاب کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ کا اضافہ

اویس احمد:-

عکسی مفتی صاحب نے کہا کہ شہاب صاحب کو رحمتہ اللہ علیہ نہ کہا جائے۔Awais Ahmed
وجہ بھی بتائی کہ شہاب صاحب کو اپنے نام کے ساتھ ’’کسی قسم‘‘ کے القابات پسند نہ تھے اورثاقب شہاب صاحب کو بھی یہ بات پسند نہیں ہے۔
اور اسی وجہ سے ترقی پسند ادیب شہاب صاحب کو بڑا ادیب نہیں مانتے۔
بات واضح ہوگئی مگر شہاب صاحب کے بعض عقیدت مندوں کو یہ بات پسند نہ آئی اورایک صاحب نے موقع پر ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی کوشش بھی کی۔
اپنی اپنی جگہ پر دونوں ہی ٹھیک تھے۔۔۔

قدرت اللہ شہاب کمال آل راؤنڈر تھے۔۔۔۔ اور مسئلہ بھی یہی ہے
ان کی شخصیت کے تین پہلو ہیں
۱۔ اعلی بیوروکریٹ۔۔۔۔۔۔
۲۔ بڑا ادیب۔۔۔
۳۔ ( چھوٹا منہ بڑی بات)
ان میں سے کوئی دو خصوصیات بھی ہوتی تو کام چل سکتا تھا۔۔۔ مگر تینوں اکھٹی ہمارے ادیبوں کے لئے قابل قبول نہیں۔۔۔۔
وہ صوفی ہوتے ساتھ میں ادیب اور دانشور بھی ہوتے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔ پنجابی کے بڑے دانشوروں اور شاعروں کی اکثریت صوفی ہی ہے۔۔۔ ان سے کبھی کسی ادیب کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔۔۔۔
وہ اعلی افسر ہوتے ساتھ میں ادیب بھی ہوتے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں تھا۔۔۔ بہت سے اعلی افسران بہت اچھے ادیب بھی گزرے ہیں۔۔ ان سے بھی کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔ کبھی ان کے ادبی قد پر انگلی نہیں اٹھائی گئی۔۔۔
وہ صوفی ہوتے ساتھ میں بڑے افسر بھی ہوتے تب بھی ادیبوں کو کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔۔۔
اتنے مسئلے کیا کم تھے کہ اوپر سے ان ہی کی برادری کے کئی لوگ شہاب صاحب کو ولی ثابت کرنے پر تل گئے۔۔ اتنے سارے مسائل اکھٹے اور ہمارے بیچارے مظلوم حساس ادیب۔۔۔

صاحب! بات یہ ہے کہ میں دن رات آپ کی تعریفوں کے پُل باندھتا رہوں تو ہو سکتا ہے بہت سے لوگ میری بات کا یقین کر کے آپ سے امپریس ہو جائیں۔۔۔۔ مگر اس کے ساتھ بہت سے لوگوں کو آپ سے چِڑ بھی ہو جائے گی کہ۔۔۔ اے کی ہر ویلے ایہنوں چُکدا رہندا اے۔۔۔۔۔۔۔ مفتی نے شہاب صاحب کو جیسا پایا کھل ڈُل کے بتایا۔۔۔
جس سے بہت سے لوگوں کو شہاب صاحب سے عقیدت ہوئی جیسے کہ ہمارے گروپ ممبران۔۔۔ مگر وہیں بہت سے چِڑ بھی گئے۔۔۔۔۔ جیسے کہ بہت سے ادبی حلقے۔۔۔
چونکہ شہاب صاحب ایک کمپوزڈ پرسنیلٹی تھے۔۔۔ کسی نے کچھ پوچھا تو بتا دیا نہیں تو اپنے کام سے کام رکھا۔۔۔۔ اگر انہوں نے بھی تبیلغ اور اصلاح کا روایتی طریقہ اپنایا ہوتا یا پیری مریدی شروع کر دیتے تو یقینا وہ لوگ کوئی نہ کوئی اعتراض گھڑ لیتے۔۔۔ اب ان کی اس خصوصیت کو بھی ان کے خلاف استعمال کیا گیا کہ ہم بھی شہاب کو جانتے ہیں مگر مفتی جس ’’سپر ہیومن‘‘ قسم کے شہاب کی بات کرتا ہے وہ تو یہ نہیں ہے۔۔۔
اگلی بات یہ کہ اشفاق، بانو، مفتی اور ابن انشا لوگ شہاب کے گُن گاتے ہیں۔۔ اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔۔ جوابا شہاب سے اعلی سرکاری ملازمتیں اور دیگر پروٹوکولز حاصل کرتے ہیں۔۔
تیسرا نظریاتی اختلاف تھا کہ شہاب ایک ڈیکٹیٹر کا ساتھ دے رہا ہے۔۔۔ اور شہاب اینڈ کمپنی (اشفاق، بانو، مفتی) خود ساختہ بابوں والا اسلام پھیلا رہے ہیں، لوگوں میں صبر کا جذبہ بھر رہے ہیں، راضی با رضا رہنے کا درس دے رہے ہیں۔۔۔ جبکہ انہیں حبیب جالب ٹائپ انقلابی اور مار دھاڑ والے لوگ پسند تھے جو عوام کو سڑکوں پر لائیں۔۔۔
سو انہوں نے شہاب صاحب کو تو سِرے سے ہی ادیب ماننے سے انکار کیا، مگر میرا ذاتی خیال ہے ’’یا خدا‘‘ منٹو کے شاہکار افسانوں کے لیول کی تحریر ہے۔۔۔ پھر جس شخص نے ’’ماں جی‘‘ جیسا افسانہ لکھا ہو اس کے بڑا ادیب ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔۔۔
یہ ہی تعصب آج تک چلا آرہا ہے۔۔۔ آج بھی بہت سے احباب اشفاق صاحب کو بھی رائٹر نہیں مانتے۔۔۔ اور تو اور کئی اعلی دانشور تحقیق میں جٹے ہوئے ہیں اور اقبال کے سارے فلسفہ کو بھی چربہ ، اکتساب اور چوری ثابت کرتے ہیں۔۔۔ اس پر بات پھر کبھی سہی۔۔۔
بات یہ ہے کہ شہاب صاحب کے ساتھیوں نے جو ان کے مذہبی پہلو کی مدح سرائی کی اس نے انہیں بطور ادیب نقصان پہنچایا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔ اور عکسی صاحب کا اشارہ بھی اسی طرف تھا۔۔۔
یہ تو رہی ادیبوں کی بات اب آ جائیں رحمتہ اللہ علیہ (اللہ کی رحمت ہو) کی طرف۔۔۔
صاحب! ہم سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ عکسی مفتی صاحب کسی کو بھی شہاب صاحب کے لئے دعا کرنے سے روک سکتے ہیں۔۔۔ نا ممکن بات ہے ناں۔۔ ’’رحمتہ اللہ علیہ‘‘ ایک مثال تھی۔۔۔۔ جو دراصل اس عمومی رویے کی نشاندہی کرتی ہے جو ہمارے ہاں لوگ بزرگوں، پیروں اور بابوں سے جوڑ لیتے ہیں۔۔۔۔ جو کہ شہاب صاحب اپنے لئے پسند نہیں فرماتے تھے۔۔۔ پیری مریدی کا روایتی سلسلہ بھی انہیں پسند نہ تھا شاید اسی لئے انہوں نے اشفاق صاحب کو روک لیا جب وہ سائیں فضل شاہ صاحب نور والے کے مرید ہونے جا رہے تھے۔۔۔ اشفاق احمد صاحب کے بیٹے اثیر احمد صاحب جن کی ساری عمر بابوں کے ساتھ ہی گزری ہے وہ شہاب صاحب کے دوست بھی تھے اور ان کے ڈرائیور بھی۔۔۔۔ ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ خدا نے ولی بھیجنا بند کر دئیے ہیں۔۔ آپ پیروں اور بابوں کے پیچھے مت جائیں۔۔۔ یہی بات عکسی صاحب نے کی کہ ممتاز مفتی اور ان کے فولوورز کا پیری مریدی سے کوئی لنک نہیں۔۔
اور ممتاز مفتی ادبی ٹرسٹ کا بھی یہی ایجنڈا ہے۔۔۔۔ لہذا ہمیں حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے ان چیزوں سے بچنے کی۔۔۔

اب آ جائیں ان کی طرف جن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی عقیدت اور محبت میں انہیں دعائیں دے القابات سے نوازے تو۔۔۔؟؟؟
تو۔۔۔۔۔۔ ست بسم اللہ میڈی جان۔۔۔۔ وہ اسکی ذاتی اسوسی ایشن ہے۔۔۔ ہمیں یہاں کسی سے محبت ہو جائے ہم اس کی تعریفیں کر کر تھکتے نہیں۔۔۔ اسے کیا سے کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔۔۔ جب کہ یہ تو معاملہ ہی اور ہے اس میں تو آپ کا دل چاہے گا اپنی محبوب شخصیت کی بڑائی کر نے کو۔۔۔
لیکن بات یہ بھی ساتھ ہے کہ سچی پریت میں صرف محبوب کی خوشی دیکھی جاتی ہے۔۔۔ محبوب کا کہا پتھر پر لکیر ہے۔۔۔۔ آپ کی اپنی ذاتی خواہشات کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔ انہیں محبوب کی خوشی پر قربان کرنا ہوتا ہے۔۔۔ اگر ایک عمل محبوب کو پسند نہیں تو پھر اس کی خوشی کے لئے ہی اسے چھوڑ دیں
عکسی صاحب اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں وہ ایک براڈر ویژن اور پر یکٹیکل اپروچ کی بات کر رہے ہیں۔۔۔
آپ اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔۔۔ آپ ذاتی وابستگی کی بات کر رہے ہیں۔۔
ایہنا بحثن دی کی ضرورت اے یار۔۔۔۔۔

1 Response

  1. atif iqbal says:

    Gustakhi maaf but muje apki ye bat samjh nahi aai k ” Allah ne wali bhejne band kr diye hain or mufti g k followers ka peeri mureedi se Koi taluq nahi.” Muje Taswuff Ki tarf laane wale he mufti g hain..babon k pas bithane wale he mufti g hain, unki izzt or adab sikhane wale he mufti g hain. So with due respect can u plz elaborate this? If you were talking about conventional peeri mureedi so it is also debateable..in the end I would like to add a line from Alkh nagri, qyamat tak ye log ( Auliaa) aate rahen ge bs dhundne wale he inko paaen gae..jzakAllah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *