چکٹ گاڑی، ہونکتا ہوٹراور موم بتی- سمے کا بندھن

لا حول ولا قوہ۔۔کتنی بے معنی خبر ھے۔۔میں نے غصے میں اخبار اٹھا کے پرے پھینک دیا۔۔بھلا ماننے کی بات ھے کیا کہ کہانی اس قدر پر اثر ھو کہ سننے والوں کو فساد پہ آمادہ کر دے۔۔میں نہیں مانتا۔۔میں نے چلا کر کہا۔۔!! ایسے ہی من گھڑت خبریں چھاپ دیتے ہیں۔۔بھئی میں خود کہانیاں لکھتا ھوں۔۔ساری زندگی اسی دھندے میں گزار دی ھے۔۔ادبی انجمنیں شاہد ہیں کہ میری کوئی کہانی کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔۔ایمان سے، لوگ سنتے ہیں۔۔اوئے اوئے کر کے خاموش ھو جاتے ہیں۔۔کبھی کبھار انجانے میں واہ بھی کر دیتے ہیں۔۔لیکن جلد ہی ہوش میں آ کر تنقید کی چمٹیاں، قینچیاں، چھریاں نکال لیتے ہیں اور پھر چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔کہانی کو کم، لکھنے والے کو زیادہ۔۔!! اس روز صبح سویرے سے میں اخبار لئے بیٹھا تھا۔۔سب سے پہلے یہی خبر نظر آئی تھی کہ مزدور شٹل میں کسی بڑے میاں نے ایک کہانی سنائی جسے سن کر سب مشتعل ھو گئے۔۔فساد برپا ھو گیا۔۔دو مارے گئے، پانچ زخمی ھو گئے۔۔آپ کہیں گے اتنی غیر اہم خبر میری نگاہ پر کیسے چڑھی۔۔آپ سے کہ دوں تو کیا حرج ھے کہ میں صرف غیر اہم خبریں پڑھتا ھوں۔۔اخبار پڑھنا بھی مجھے میرے دوست ابن انشا نے سکھایا تھا۔۔کہنے لگا ” مفتی، سچی اور عوامی خبریں پڑھنا چاھتے ھو تو غیر اہم خبریں پڑھو۔۔اس لئے اخبار کو الٹی طرف سے کھولو جہاں غیر اہم خبریں ھوتی ہیں۔۔اہم خبریں کبھی سچی نہیں ھوتیں۔۔جن مسائل سے بڑوں کی غرض و غایت وابستہ ھو، نہ وہ سچی ھو سکتی ہیں نہ عوامی۔۔لہذا عوام سے متعلق خبریں پڑھو جو اخبار میں غیر اہم صفحات پر ڈھیر کر دی جاتی ہیں۔۔!! مثلا فلاں خاتون کے گھر دو سروں والا بچہ پیدا ھوا۔۔فلاں گھر میں جنات کی خشت باری ابھی تک جاری ھے۔۔راہ چلتے نوجوان نے خاتون کو آنکھ ماری اور پکڑا گیا۔۔ایسی خبریں۔۔!! اس روز اخبار میں خبر پڑھ کے میں سوچ میں پڑ گیا۔۔ممکن ھے یہ درست ھو۔۔بھلا غیر سیاسی خبر میں جھوٹ ملانے کی کیا ضرورت تھی۔۔جوں جوں میں سوچتا گیا توں توں شکوک پیدا ھوتے گئے۔۔یہ کیسے ممکن ھے کہ کوئی کہانی اس قدر پر اثر ھو کہ فساد پر آمادہ کر دے۔۔!! پھر خیال آتا، آخر ادبی محفل میں بھی تو کہانی سننے والے آستین چڑھا کر بات کرتے ہیں اور میز پر مکے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔اس لحاظ سے تو خبر درست ھو سکتی ھے۔۔!! پھر خیال آتا نہیں، یہ نہیں ھو سکتا۔۔ادبی محفل میں تو پڑھے لکھے لوگ ھوتے ہیں۔۔ہر کسی نے تنقید پر کوئی نہ کوئی کتاب پڑھ رکھی ھوتی ھے۔۔لہذا وہ اپنے علم کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ھوتا ھے۔۔اور علم کا مظاہرہ ہر دوسرے کی بات رد کرنے میں ہی ھوتا ھے۔۔سپورٹ کرنے میں نہیں۔۔پھر یہ بھی ھے کہ ادبی محفل کا ہال واحد جگہ ھے جہاں ادیب کو کھل کر بات کرنے کا موقع ملتا ھے۔۔باہر سیاستیے بولنے نہیں دیتے، گھر میں بیوی۔۔۔!! اور پھر یہ بھی تو ھے کہ معترض کا مقصد کہانی پر بات کرنا نہیں ھوتا بلکہ اپنی ادبی صلاحیتیں چھانٹنا ھوتا ھے۔۔مزدور نقاد تھوڑا ہی ھوتے ہیں۔۔وہ ایک معصوم سی کہانی پر کیسے مشتعل ھو سکتے ہیں۔۔!! خبر من گھڑت ھے، میں نے چیخ کر کہا اور غصے میں اخبار کو پھینک دیا۔۔۔عین اس وقت سجاد آ گیا۔۔سجاد میرا دوست ھے۔۔یقیننا آپ اسے جانتے ھوں گے۔۔بھئی، مشہور جرنلسٹ ھے۔۔وہ آتے ہی بولا ” کونی خبر من گھڑت ھے”؟ “خبر ھے کہ چلتی گاڑی میں ایک مزدور نے ایک کہانی سنائی۔۔جسے سن کر لوگ اس قدر مشتعل ھو گئے کہ فساد برپا ھو گیا۔۔دو مارے گئے،پانچ زخمی ھو گئے” میں نے جواب دیا۔۔لیکن میں نہیں مانتا کہ کوئی کہانی اس قدر پر اثر ھو سکتی ھے۔۔!! کیوں نہیں ھو سکتی؟۔۔۔وہ بولا بھئی میں خود افسانہ نویس ھوں۔۔میں جانتا ھوں کہ ایسا نہیں ھو سکتا۔۔!!

کیوں نہیں ھو سکتا؟۔۔سجاد تن کر کھڑا ھو گیا۔۔! بھئی ایک کہانی کی وجہ سے اتنا بڑا فساد کھڑا ھو جائے، بات سمجھ نہیں آتی۔۔البتہ ایک صورت ھے، اگر کہانی ذاتی نوعیت کی ھو تو پھر ھق سکتا ھے کہ سننے والے کو غصہ ا گیا ھو۔۔۔!! سجاد نے نفی میں سر ہلایا۔۔بولا، یہ کہانی ذاتی نوعیت کی نہیں تھی۔۔!! تمہیں پتہ ھے کیا؟۔۔۔میں نے پوچھا ہاں، پتا ھے۔۔اس نے جواب دیا کیسی کہانی تھی وہ؟۔۔۔میں نے اسے کریدا عام سی تھی، جیسے فیبلز ھوتی ہیں، مثلا چڑی کاں کی کہانی۔۔!! نہیں یار، مذاق نہ کر۔۔۔میں ہنس پڑا۔۔۔اول تو کہانی میں اتنی طاقت نہیں ھوتی کہ فساد برپا کر سکے، پھر چڑی کاں جیسی کہانی۔۔اونہوں۔۔یہ خبر سرے سے ہی غلط معلوم ھوتی ھے۔۔!! خبر تو بھئی سولہ آنے مصدقہ ھے۔۔سجاد نے تن کر کہا تم کیسے کہ سکتے ھو کہ مصدقہ ھے؟۔۔میں نے پوچھا بھئی میں خود وہاں موجود تھا۔۔سجاد بے جواب دیا موقع پر۔۔۔؟ ہاں، موقع پر۔۔۔!! تم نے وہ کہانی خود سنی تھی کیا۔۔؟ بالکل بھئی۔۔میں کہانی سنانے والے کے قریب کھڑا تھا۔۔!! تو یار مجھے سنائو وہ کہانی۔۔میں نے پینترا بدلا بھئی وہ ایک عام سی کہانی تھی، جیسے ہوتی ہیں، پرانی کہانیاں اور سنانے والا ایک عام سا آدمی تھا۔۔ایک معمر مزدور اور کہانی سنانے سے اس کا کوئی خاص مقصد نہ تھا۔۔!! تو پھر اس نے کہانی سنائی کیوں؟۔۔۔میں نے پوچھا یار بڑے بوڑھوں کی عادت ھوتی ھے کہ جہاں بیٹھتے ہیں کوئی اصلاحی بات یا نصیحت چھیڑ دیتے ہیں۔۔اور پھر اس کی سپورٹ میں کوئی فوک وزڈم کہانی سنا دیتے ہیں۔۔یا سعدی کی یا مولانا روم کی کوئی حکایت۔۔بہر حال وہ اپنی نوعیت کی کہانی تھی۔۔سجاد نے کہا تم سنائو تو سہی۔۔میں نے اس کی منت کی سجاد کرسی پر بیٹھ گیا۔۔جیب سے سگریٹ نکالا، سلگایا۔۔ایک لمبا کش لے کر دھواں چھوڑا۔۔پھر جیسے کہانی سنانے کے لئے تیار ھو کے بیٹھ گیا۔۔لیکن جلد ہی پھر ہچکچا کر بولا۔۔اس وقت وہ کہانی شائد پھسپھسی لگے۔۔دراصل کہانی کا ماحول سے گہرا تعلق تھا۔۔!! تو ماحول بھی بیان کر دو،اس میں کیا مشکل ھے؟۔۔میں نے کہا کچھ دیر کے لیے سجاد سوچتا رہا۔۔پھر بولا، تم فیکٹری شٹل کو جانتے ھو کیا جس میں حادثہ وقوع پذیر ھوا۔۔؟ بھئی ظاہر ھے وہ کوئی گاڑی ھو گی۔۔۔میں نے جواب دیا گاڑی تو ھے، سجاد بولا۔۔لیکن ایک خصوصی گاڑی ھے۔۔یہ گاڑی روز صبح شہر سے مزدوروں کو لاد کر تارپین آئل فیکٹری تک پہنچاتی ھے۔۔اور شام کو فیکٹری سے انھیں لاد کر شہر لے آتی ھے۔۔یہ فاصلہ تقریبا چالیس میل کا ھے۔۔اس لائن پر کوئی سٹیشن نہیں۔۔صرف فلیگ سٹاپ ہیں۔۔جب یہ شٹل شہر پہنچتی ھے تو اسے باقاعدہ پلیٹ فارم پر نہیں لاتے بلکہ سٹیشن سے باہر سائیڈنگ پر کھڑا کر دیتے ہیں۔۔!! وہ کیوں؟۔۔۔میں نے پوچھا بھئی اس لئے کہ یہ گاڑی اس قابل نہیں کہ اسے منظر عام پہ لایا جائے۔۔سجاد نے جواب دیا دراصل یہ گاڑی نہیں تیلی کی دکان ھے۔۔کل کوئی چھ بوگیاں ھوں گی۔۔سب تیل سے چکٹ۔۔سیٹیں، فرش، پہیے، پائدان سب کالے دھت۔۔۔نہ تو بوگیوں میں دروازوں کے پٹ ہیں نہ کھڑکیوں کے شٹر۔۔سامان رکھنے کے تختے بھی اکھاڑ لئے گئے ہیں۔۔کھڑکیوں کو بند کرنے والے شیشے اور تختے ٹوٹ چکے ہیں۔۔باتھ روم کے دروازے بھی غائب ہیں۔۔۔ان بوگیوں میں نہ بتیاں ہیں نہ پنکھے۔۔صرف یہی نہیں بوگیوں کا ہر پیچ ڈھیلا ھے۔۔پہیے چلنے کے ساتھ جھولتے بھی ہیں۔۔ایک گاڑی کو دوسری گاڑی سے جوڑنے والے کنڈے تو ہیں مگر بفرز کے شاک آبزاربرز کب کے دم توڑ چکے ہیں۔۔!!

چلتے ھوئے دھکے لگتے ہیں اور ساتھ عجیب و غریب قسم کی آوازیں پیدا ھوتی ہیں۔۔یوں جیسے پر اسرار فلم میں بیک گرائونڈ میوزک چل رہی ھو۔۔سجاد ہنسنے لگا۔۔وہ گاڑی نہیں اونٹ ھے۔۔اس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔۔البتہ ایک ہوٹر ھے جو بہت جاندار ھے۔۔نہایت بھدی اور ڈرائونی آواز میں بجتا ھے۔۔اور تقریبا سارا راستہ بجتا ہی رہتا ھے۔۔کچھ دیر کے لیے وہ رک گیا۔۔!! ہوا یوں کہ چار ایک دن پہلے تارپین آئل فیکٹری کے متعلق ایک خبر چھپی تھی کہ بیروزہ کے پھوگ سے ہم ایک ایسی چیز بنانے میں کامیاب ھو گئے ہیں جو عوام کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرے گی۔۔وہ پھر رک گیا۔۔!! اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے کہا، بھئی یہ کیا چیز ھے جو عوام کی زندگی پہ گہرا اثر مرتب کرے گی؟۔۔اس کی تفصیلات کا پتہ چلائو۔۔اور اگر واقعی یہ چیز اہم ھے تو اس پہ ایک فیچر لکھ دو۔۔ اس پر میں نے فیکٹری کے پی آر کو فون کر کے پوچھا کہ وہ کیا چیز ھے۔۔وہ بولا، چیز بتانے کی نہیں دیکھنے کی ھے۔۔یہاں آ جائو۔۔اسی وجہ سے مجھے کل تارپین فیکٹری جانا پڑا۔۔۔وہاں دن بھر ریسرچ میں مصروف رہا۔۔پھر شام کو اسی گاڑی سے لوٹا جس میں یہ حادثہ پیش آیا۔۔سجاد خاموش ھو گیا۔۔پھر بولا، چائے پلائو گے۔۔۔؟ میں نے چڑ کر کہا۔۔پہلے ساری بات مجھے بتا، پھر پلائوں گا۔۔!! وہ ہنسنے لگا، سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا۔۔بولا، واپسی پر جب میں سٹاپ پر پہنچا تو گاڑی حرکت میں آ چکی تھی۔۔خیر میں دوڑ کر سوار ھو گیا۔۔اس وقت سورج غروب ھو رہا تھا۔۔اندھیرا پھیل رہا تھا۔۔گاڑی مزدوروں سے کھچا کھچ بھری ھوئی تھی۔۔در اصل اس روز ان کا پے ڈے تھا۔۔اس لئے حاضری فل تھی۔۔گاڑی میں تیل، پسینے اور فکرمندی کی بو کے بھبھکے اٹھ رھے تھے۔۔وہ سب گردنیں جھکائے بیٹھے تھے۔۔ہر کوئی اپنی ہی دنیا میں کھویا ھوا تھا۔۔ایک دوسرے سے کوسوں دور۔۔نہ جانے کہاں۔۔۔!! تو تو کہتا ھے وہ پے ڈے تھا۔۔میں نے اسے ٹوکا بالکل پے ڈے تھا۔۔سجاد نے جواب دیا مزدور تو پے ڈے پر خوش ھوتے ہیں۔۔میں نے کہا یہ غلط فہمی ھے۔۔سجاد بولا۔۔مہینے بھر مزدور لوگ پے حاصل کرنے کی امید رچائے رکھتے ہیں۔۔خواب دیکھتے رہتے ہیں۔۔پے ڈے کو انھیں احساس ھوتا ھے کہ حصول کتنا عبث ھے۔۔کتنا بے معنی۔۔کتنی عجیب بات ھے،سجاد مسکرایا۔۔کہ زندگی کا المیہ حاصل نہ ھونے میں نہیں بلکہ حاصل ھو جانے کے بعد اس احساس میں ھے کہ کیا اسی کے لئے اتنی شورا شوری تھی۔۔نطشے کہتا ھے کہ ہماری زندگی کا عظیم ترین لمحہ وہ ھے جب ہماری بڑی سے بڑی آرزو، بڑی سے بڑی کامیابی ہماری نگاہ میں ہیچ نظر آتی ھے۔۔!! ہٹا یار۔۔میں نے چڑ کر کہا۔۔نطشے بازی چھوڑ، مجھے وہ کہانی سنا۔۔!! وہ میری بیقراری پہ ہنسنے لگا۔۔ایک معمولی سی کہانی کے لئے تم خود کو رسی کی طرح بل دے رھے ھو۔۔یہ کہ کر اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور بات شروع کی۔۔بولا، اتفاق سے مجھے کھڑے ھونے کے لئے وہیں جگہ ملی جہاں وہ بڈھا مزدور داستان گو بیٹھا تھا۔۔ایک دبلا پتلا مزدور میرے پاس کھڑا تھا۔۔بولا، میاں جی آپ کہانی سنانے لگے تھے۔۔ہاں، ہاں بڈھا بولا۔۔یہ ان دنوں کا واقعہ ھے جب غلام رکھنے کی رسم عام تھی۔۔بازار میں ہر اٹھوارے منڈی لگا کرتی تھی جس میں غلام کھلم کھلا بکتے تھے۔۔سوداگر بکنے والے کوتھڑے پر کھڑا کر کے اس کی خوبیاں گنواتے کہ دیکھ لو مضبوط آدمی ھے۔۔جوان ھے، طاقت ور ھے۔۔کام کر سکتا ھے، بے داغ ھے۔۔جس طرح گھوڑے کو بیچتے وقت اس کے دانت دکھاتے ہیں پھر بولی شروع ھو جاتی ھے۔۔جو سب سے اونچی بولی دیتا، غلام ہمیشہ کے لئے اس کی ملکیت ھو جاتا اور مالک اس سے زندگی بھر جو کام چاھتا، لیتا۔۔!! گاڑی چیختی، چلاتی، کراہتی ھوئی چلی جا رہی تھی۔۔گردوپیش کا ویران علاقہ دھندلا ھو چکا تھا۔۔رات کا اندھیرا ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔گاڑی کے اندر فکرمندی اور اداسی کے انبار لگے ھوئے تھے۔۔مزدوروں کی شکلیں دھندلائے جا رہی تھیں۔۔ہوٹر اپنی بھدی آواز میں کراہ رہا تھا۔۔!! کچھ دیر کے بعد میاں جی بولے، پھر جو بندے کو غلام بنانے کے خلاف آوازے لگنے لگے تو ملک کے قانون میں بدلی کر دی گئی۔۔!!

ملک میں ڈھنڈورا پیٹ کر اعلان کر دیا گیا کہ جس طرح مالک کو حق حاصل ھے کہ وہ جب چاھے اپنے غلام کو منڈی میں لا کر بیچ سکتا ھے اسی طرح آئندہ سے غلام کو بھی حق حاصل ھو گا کہ وہ جب چاھے خود کو بکنے کے لئے پیش کر دے۔۔مطلب یہ کہ جس غلام کو اپنا آقا پسند نہ ھو وہ شہر کے قاضی کے پاس جائے۔۔اگر قاضی اسے بکنے کی اجازت دے دے تو منڈی میں خود کو بکنے کے لئے پیش کر دے۔۔بولی میں جو قیمت ملے وہ اپنے پہلے مالک کو دے دے اور خود کو نئے مالک کے حوالے کر دے۔۔!! گاڑی میں بیٹھے ھوئے مزدور جوں کے توں چپ چاپ بیٹھے تھے۔۔ایسے معلوم ھوتا تھا جیسے کوئی کہانی نہیں سن رہا تھا۔۔ہر کوئی اپنی ہی سوچ میں کھویا ھوا تھا۔۔صرف وہی دبلا پتلا مزدور ہنکارا بھر رہا تھا۔۔جی میاں جی پھر۔۔؟ میاں جی نے سر اٹھا، ایک لمبی آہ بھری اور بولے۔۔شہر میں ایک غلام تھا، زبیر۔۔نوجوانی کا عالم تھا، مسیں بھیگ رہی تھیں۔۔جسم میں جان تھی۔۔ناک نقشے میں جاذبیت تھی۔۔وہ ہر چوتھے دن شور مچا دیتا میں بکوں گا۔۔میں اس مالک کے پاس نہیں رہوں گا۔۔اس مالک میں کیا عیب ھے جو تو اس کے پاس نہیں رھے گا؟۔۔قاضی نے پوچھا زبیر بولا، جناب یہ مالک مجھ سے اچھا برتائو نہیں کرتا۔۔میں سارا دن اس کے کاموں میں جتا رہتا ھوں لیکن یہ خود تو تازی روٹی کھاتا ھے اور مجھے کھانے کو باسی دیتا ھے۔۔قاضی نے زبیر کو بہت سمجھایا کہ اتنی سی بات کو دل پہ نہیں لگاتے لیکن زبیر نہ مانا۔۔قاضی نے اسے بکنے کی اجازت دے دی اور وہ پھر سے بک گیا۔۔۔!! اپنے نئے مالک کے گھر چند ہی روز رہنے کے بعد زبیر نے پھر شور مچا دیا۔۔میں بکوں گا، میں بکوں گا۔۔۔میں اس مالک کے پاس نہیں رہوں گا۔۔اس نے کہا یہ خود گہیوں کھاتا ھے اور مجھے جو کی دیتا ھے۔۔قاضی نے پھر اسے بہت سمجھایا بجھایا مگر وہ نہ مانا اور پھر بک گیا۔۔!! تیسرے مالک کے گھر پہنچتے ہی زبیر نے پھر سے چیخ و پکار شروع کر دی کہ اس سے بہتر تو میرا پہلا مالک ہی تھا جو اگر چہ جو کی دیتا تھا لیکن دو وقت تو دیتا تھا۔۔یہ تو صرف ایک وقت روٹی دیتا ھے اور وہ بھی روٹی نہیں بلکہ پانی میں بھگوئے ھوئے سوکھے ٹکڑے۔۔یہ مجھے انسان نہیں جانور سمجھتا ھے۔۔۔میں اس کے پاس نہیں رہوں گا۔۔

قاضی بولا، زبیر میں نے تجھے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ مالک ایسے ہی ھوتے ہیں۔۔اب میں تجھے کیا سمجھائوں۔۔! گاڑی کے ہوٹر نے زور سے لمبی چیخ ماری، بوڑھا رک گیا۔۔!! گاڑی ہونک رہی تھی، یوں جیسے سسکیاں بھر رہی ھو۔۔کل پرزے کڑکڑا رھے تھے۔۔انجن یوں چیخ رہا تھا جیسے چلا چلا کر کہ رہا ھو۔۔بکوں گا، میں بکوں گا۔۔گاڑی کے اندر خاموشی کا تنبو تنا ھوا تھا۔۔گھپ اندھیرے میں سے دبی دبی آہوں کراہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔!! پھر میاں جی؟۔۔دبلے پتلے واحد سامع کی آواز سنائی دی۔۔پھر کیا ھوا؟۔۔میاں جی بولے، زبیر کی آوازیں آتی رہیں، آتی رہیں۔۔میں بکوں گا، میں بکوں گا۔۔پہلے ان آوازوں میں غصے کا رنگ تھا۔۔پھر آہستہ آہستہ ان میں دکھ کا پہلو ابھرتا گیا۔۔پکاریں کراہوں میں بدلتی گئیں۔۔اور وہ پکتا گیا، پکتا گیا۔۔پھر دفعتا اس کی آواز خاموش ھو گئی۔۔زبیر چپ ھو گیا۔۔زبیر کو یوں چپ دیکھ کر لوگ چونکے، یہ کیا ھوا؟۔۔زبیر چپ کیوں ھو گیا۔۔؟ سارے مزدوروں اور غلاموں میں چہ مگوئیاں ھونے لگیں۔۔ایک بولا، زبیر کو آخر کار آقا مل گیا ھے۔۔وہ خوشی کی وجہ سے چپ ھو گیا ھے۔۔دوسرے نے کہا چلو مان لیا کہ وہ خوش ھے۔۔پھر وہ خوش دکھتا کیوں نہیں؟۔۔پہلے اس کا چہرہ کتنا صاف تھا۔۔اس پر بشاشت کی جھلک تھی۔۔مگر اب ماتھے پر تیوری چڑھ بیٹھی ھے۔۔آنکھیں اندر دھنس گئی ہیں۔۔!! ایک بوڑھے غلام نے کہا وہ اس لئے چپ ھو گیا ھے کہ وہ جان گیا ھے۔۔اس کے بعد جب بھی زبیر بازار میں نکلتا تو لوگوں کی نگاہیں اس پہ مرکوز ھو جاتیں۔۔دیکھو، دیکھو وہ قاضی کی طرف جا رہا ھے۔۔ضرور وہ بکنا چاھتا ھے۔۔لیکن جب وہ دیکھتے کہ اس کا رخ کسی اور طرف ھے تو وہ مایوس ھو جاتے۔۔پھر وہ آوازے کستے۔۔زبیر، تو قاضی کے پاس کیوں نہیں جاتا؟کیا تو بکنا نہیں چاھتا؟۔۔کیا تو خوش ھے؟۔۔لیکن زبیر ان آوازوں کو ان سنی کر کے گردن جھکائے چلا جاتا۔۔!! لوگوں کی آپس میں شرطیں لگ گئیں۔۔کچھ لوگ کہتے تھے کہ زبیر خوش ھے۔۔کچھ کہتے تھے وہ خوش نہیں۔۔شرط پر فیصلہ سننے کے لئے لوگوں نے اپنے آوازے تیز کر دیئے۔۔آخر ایک روز ان آوازوں سے اکتا کر زبیر رک گیا۔۔اس نے منہ موڑ کر آوازہ لگانے والی کی طرف دیکھا اور چلا کر بولا “میں نہیں بکوں گا، میں نہیں بکوں گا۔۔میں خوش ھوں،بہت خوش”۔۔آوازے لگانے والوں پر خاموشی طاری ھو گئی۔۔ابھی زبیر نے جانے کے لئے رخ بدلا ہی تھا کہ مجمعے سے ایک آواز آئی۔۔تو کیوں نہیں بکے گا؟۔۔وجہ۔۔۔؟ زبیر پھر رک گیا۔۔بولا، میرا آقا علم کا رسیا ھے۔۔مطالعے کا شوقین ھے۔۔مگر اتنا کنجوس ھے کہ چراغ دان نہیں خریدتا۔۔رات کو جب وہ مطالعہ کرتا ھے تو چراغ میری ہتھیلی پر رکھ دیتا ھے۔۔یوں میں آدھی آدھی رات تک چراغ اٹھائے رہتا ھوں۔۔۔نہیں، میں نہیں بکوں گا۔۔۔وہ چیخ کر بولا۔۔میں ڈرتا ھوں کہ میرا اگلا مالک مجھے تیل پلا دے گا اور میرے منہ سے بتی نکال کر مجھے دیا بنا لے گا۔۔نہیں، میں نہیں بکوں گا۔۔میں نہیں بکوں گا۔۔۔!! بڈھا خاموش ھو گیا۔۔گاڑی پر سکوت طاری ھو گیا۔۔اندھیرا اس قدر گاڑھا تھا کہ محسوس ھوا جیسے کسی نے ہمیں کنوئیں میں دھکا دے دیا ھو۔۔سانس لینا مشکل ھو رہا تھا۔۔یونہی صدیاں بیت گئیں۔۔پھر دفعتا گاڑی کا ہوٹر کراہنے لگا،میں نہیں بکوں گا، میں نہیں بکوں گا۔۔اس پر گاڑی میں ایک حرکت پیدا ھوئی۔۔ایک آواز آئی،میاں جی۔۔تو مجھے طعنہ دے رہا ھے۔۔میں خوب سمجھتا ھوں۔۔پھر ایک مزدور کھڑا ھو گیا۔۔یہ تجھے طعنہ نہیں دے رہا، عبداللہ۔۔میرا مذاق اڑا رہا ھے،مجھے پتا ھے۔۔اس کی آواز میں تشدد تھا۔۔! نہیں، نہیں پتلا مزدور بولا۔۔میاں جی تو کہانی سنا رھے تھے۔۔!! ٹھہر جا تو۔۔تشدد بھری آواز پھر آئی۔۔میں اس بڈھے کو اچھی طرح جانتا ھوں۔۔میں اسے سمجھ لوں گا۔۔!! پھر اس ہنگامے سے ایک دھونس سنائی دی اور ایک اونچا لمبا آدمی چھلانگ لگا کر کونے سے باہر نکل آیا۔۔تو رہنے دے، لمبا تڑنگا بولا۔۔اس بڈھے نے تجھے نہیں مجھے چھیڑا ھے، مجھے۔۔۔میرا نام زبیر ھے۔۔میں اسے بتائوں گا کہ میں کیوں بکنا نہیں چاھتا۔۔۔ہٹ جائو، ہٹ جائو۔۔جس نے اس کی حمایت کی۔۔اس سے میں سمجھ لوں گا۔۔!!

پھر بوگی میں چاروں طرف سے تشدد بھری آوازیں آنے لگیں، سجاد نے کہا۔۔!! یہ عالم دیکھ کر میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا اور وہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ھو گئے۔۔گاڑی کے پہیے ہونک رھے تھے۔۔بفر ٹکرا ٹکرا کر دھکے دے رھے تھے۔۔ہوٹر چلا رہا تھا۔۔میں نہیں بکوں گا، میں نہیں بکوں گا۔۔!! سجاد خاموش ھو گیا۔۔دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔۔جیسے گہری سوچ میں پڑا ھو۔۔پھر اس نے ایک لمبی آہ بھری۔۔سچی بات یہ ھے مفتی، وہ بولا۔۔میرا جی چاھتا تھا کہ بڑھ کر اس بڈھے کی ناک پر گھونسا ماروں۔۔!! وہ کیوں؟۔۔میں نے پوچھا پتا نہیں، سجاد ہنسا۔۔مجھے ایسا لگا جیسے اس بڈھے نے میرا راز مجھ پر کھول دیا ھو۔۔پہلی مرتبہ میں نے محسوس کیا جیسے میرے ایڈیٹر نے مجھے موم بتی بنا کر دونوں سروں پر جلا کر رکھا ھو، تاکہ اس کا اپنا نام روشن رھے۔۔!! ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *