راجہ گدھ.. تبصرہ :کنول سجاد

✍️

یونیورسٹی میں سیمی کو اپنے کلاس فیلو کشمیری خوبصورت لڑکے آفتاب سے محبت ہو جاتی ہے اور دوسری طرف آفتاب کا روم میٹ قیوم سیمی کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے. محبت اور عشق کی اس تکون کا ظاہری خاتمہ تب ہوتا ہے جب آفتاب اپنی کزن سے شادی کر لیتا ہے اور سیمی جسمانی تعلقات قیوم سے قائم کر لیتی ہے.

ان تمام واقعات کا تفصیلی مطالعہ بانو قدسیہ کی سماجی مسائل اور گھٹن پر گہری نظر اور احساسات کی غمازی کو عیاں کرتا ہے.

کہانی آگے بڑھتی ہے اور سیمی خودکشی کر لیتی ہے جبکہ قیوم اپنی بھابھی کی بھابھی اور ایک طوائف سے جسمانی تعلقات استوار کر لیتا ہے.

تب قیوم کو مشورہ دیا جاتا ہے ایک وہ کسی اچھی لڑکی سے شادی کر لے کیونکہ وہ ایسی زندگی کیلئے نہیں بنایا گیا ہے. قیوم کی حامی کیبعد اس کی بھابھی اس کیلئے ایک لڑکی تلاش کر کے شادی کروا دیتی ہے مگر قیوم کی پہلی سے افسردگی اس وقت مزید تکلیف کا باعث بنتی ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیوی پہلے سے ہی اپنے عاشق کی حاملہ ہے. قیوم اپنی بیوی کو اس کے عاشق سے شادی کرنے کی اجازت دیتے ہوئے طلاق دے دیتا ہے.

یہاں بانو قدسیہ نے قدرت کے نظام جیسا کروگے ویسا بھرو گے کیجانب اشارہ کیا جس کا تعلق قیوم کے ماضی میں استوار ہونے والے تعلقات کا حاملہ بیوی کے ملنے کا سبب بیان کیا ہے.

ناول میں بہترین ڈائیلاگ اور استعارے استعمال کیے گئے ہیں. میری فہم کے مطابق بانو قدسیہ نے قیوم جیسے مرد کو گدھ کے روپ میں بیان کیا خاص کر جب اس نے روح اور سوچوں کی حد تک ٹوٹ چکی سیمی کیساتھ جسمانی تعلق قائم کیا جسے بانو نے گدھ سے تشبیہ دی جو مردار کھانے میں نا صرف مشہور ہے بلکہ اس کا پسندیدہ عمل یا پسندیدہ خوراک بھی ہے.

بانو قدسیہ نے دیوانگی کی اس قسم کو حرام کھانے سے جوڑا ہے بلکہ یہ بھی کہا کہ اس کا اثر نسل در نسل چلتا ہے اور نتائج بھی نسل در نسل ہے ملتے ہیں.

بانو قدسیہ کے مطابق مغرب کے فلسفے میں سب سے بڑی خرابی حلال اور حرام اشیاء کے مابین تمیز کا نا ہونا ہے. خوراک کا اثر سرشت میں شامل ہو جاتا ہے. جو اقوام کے اجتماعی اساس کی علامت بن ہے.

بانو نے سیمی کے کردار کو ایک آزاد خیال اور لبرل لڑکی کے طورپر پیش کیا ہے اور ساتھ ہی سماجی مسائل کے ذمہ دار جدید علوم کو ٹھہرایا ہے. ان کے مطابق ان تمام مسائل کا حل مشرقی ثقافت کی پیروی اور روحانیت بتایا ہے.

بانو قدسیہ نے ناول میں بیان کی گئیں سماجی منافرت, مسائل اور پسماندگی کا علاج روحانیت قرار دیا ہے. ان کے مطابق عرفان کی منزل یا کیفیت کی چاہ ایک خوبصورت اور تسکین کی سی کیفیت ہے بلکہ اسے دیوانگیوں میں سے افضل دیوانگی قرار دیتی محسوس ہوئیں ہیں.

ہر انسان کے سوچنے سمجھنے کا اپنا الگ نقطہ نظر ہے لیکن راجہ گدھ کے سالوں پہلے کیے گئے مطالعہ سے مجھے جو سمجھ محسوس ہوئے وہ خیالات درج بالا تھے.

کنول سجاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *